ہفتہ، 14 مئی، 2016

دو اسلام از ڈاکٹر غلام جیلانی برق - 1

کچھ عرصہ قبل جارج آرویل جیسے نابغہ روزگار اور جینئس کی کتاب پڑھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ کیا اس طرح کا کوئی جینئس ہمارے ہاں بھی پیدا ہوا ہو گا۔ کافی غور کیا، لیکن کوئی خاص نام ذہن میں نہ آیا۔ پھر ایک دن ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی کتاب دو اسلام کے بارے میں پڑھنے کو ملا۔ ابھی صرف ابتدائیہ ہی پڑھا کہ فوراؐ دل سے آواز نکلی کہ ہاں ہمارے ہاں بھی جینئس لوگ ضرور پیدا ہوئے ہیں۔ یہ اور بات کہ ایک مخصوص ذہنی یا طبعی رجحان رکھنے کی بدولت ہم لوگوں نے ان کی قدر کرنے کی بجائے ان کو ملعون و مطعون ٹھہرایا یا وہ لوگ گمنامی وغیرہ میں ہی مر گئے۔
چند روز قبل میں نے پوری کتاب (یعنی دو اسلام) بھی پڑھ لی۔ اس پہ تفصیل میں لکھا جا سکتا ہے۔ تاہم اس بلاگ میں صرف اس کتاب کے ابتدائیے کو ہو بہو شامل کر رہا ہوں۔ بعد میں انشاءاللہ دوسرے حصے میں کتاب کی بابت کچھ تبصرہ بھی شامل کروں گا۔

پیر، 25 اپریل، 2016

فورٹی رولز آف لو از ایلف شفق

ترک نژاد مصنفہ ایلف شفق کا ناول فورٹی رولز آف لو پہلی دفعہ 2009 یا 2010 میں شائع ہوا تھا۔ لیکن نجانے کیوں اس ناول نے گزشتہ دو تین سالوں میں زیادہ شہرت پائی ہے۔ کچھ احباب سے اس ناول کی شہرت سن کر میں نے بھی آخرکار اس کو پڑھ ہی ڈالا۔ اگر پہلے سے کچھ علم یا ریویو نہ ہو تو اس ناول کا نام کافی مس لیڈنگ ہو سکتا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ یہ رومانوی یا ازدواجی زندگی میں کامیابی کا نسخہ لئے ہوئے کوئی کتاب ہو گی۔ تاہم اس کتاب کا موضوع کافی مختلف اور چونکا دینے والا ہے۔ فورٹی رولز آف لو کی کہانی دراصل دو مختلف ادوار یا دو مختلف دنیاؤں میں چلنے والی دو کہانیوں کو ساتھ لے کے چلتی ہے۔

منگل، 19 اپریل، 2016

مزید حماقتیں از شفیق الرحمٰن سے اقتباس

ذیلی اقتباس اس کتاب کے پہلے باب یعنی "تزکِ نادری" سے لیا گیا ہے۔

حملہ آوری اور برادر محمد شاہ کی ہماری ذات سے عقیدت​
صبح سے محمد شاہ اپنا لشکر لے کر سامنے آیا ہوا تھا، مگر ابھی تک سعادتِ زیارت سے مشرف نہ ہوا تھا۔ دوپہر کو ایک ایلچی رنگین جھنڈا لہراتے ہوئے آیا اور معروض ہوا کہ "محمد شاہ صاحب نے دریافت کیا ہے کہ حملہ کرنے کا کس وقت ارادہ ہے؟" ہم نے پوچھا "ابے حملہ کیسا؟" ایلچی نے عرض کیا "خداوندِ نعمت وہ تو عرصے سے آپ کے حملے کے منتظر ہیں۔ اتنے دنوں سے تیاریاں ہوتی رہی ہیں۔ اگر حملہ نہ ہوا تو سب کو سخت مایوسی ہو گی۔ کل بارش کی وجہ سے لشکر اکٹھا نہ ہو سکا۔ اور پھر یہ رسم چلی آتی ہے کہ درہ خیبر سے آنے والے۔۔۔"
"بس بس! آگے ہمیں پتا ہے۔" ہم نے اسے ڈانٹا۔

منگل، 5 اپریل، 2016

پاکستان کرکٹ کا مسئلہ کیا ہے؟

حالیہ ٹی20 ورلڈکپ میں شرمناک شکست کے بعد یار لوگ مختلف قسم کے حل پیش کر رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ویوین رچرڈز کو کوچ لگوا دو، کوئی ڈین جونز اور کوئی وسیم اکرم کو کوچ بنانے میں کرکٹ کی بہتری دیکھ رہا ہے۔

اس ضمن میں میری رائے ان سے کچھ مختلف ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کرکٹ کے مسائل ان تکنیکی باریکیوں سے کہیں بڑے اور گھمبیر ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ احتساب کا ہے کہ یہاں کسی کو ڈر نہیں کہ کوئی پوچھے گا۔ کھلاڑی اپنی من مانی کرتے ہیں اور بورڈ انتظامیہ بشمول سلیکشن کمیٹی ایسے فیصلے کرتے ہیں کہ چارلی چپلن یا امان اللہ جیسے کامیڈین کو بھی مات کرتے ہیں۔ ماضی قریب کی مثال ہی دیکھ لیں کہ کیسے انہوں نے رفعت اللہ مہمند کا مردہ قبر سے نکال کے اس کو ٹی20 کھلا لیا۔یا خرم منظور کو ٹی20 میں اور یونس خان کو ون ڈے ٹیم میں ڈال دیا۔

بدھ، 30 مارچ، 2016

داعش کی پسپائی کا آغاز؟

صرف چند ماہ پہلے کی بات ہے کہ داعش یا اسلامی سٹیٹ کے نام سے مشہور شدت پسند تنظیم نے عراق اور شام کے وسیع علاقے پر قبضہ کر کے اس پہ اپنی حکومت قائم کی ہوئی تھی۔ ان علاقوں پہ داعش کا نفوذ یا ہولڈ اس قدرتھا کہ اس علاقے کو ایک طرح سے ڈی فیکٹو سٹیٹ قرار دیا جا رہا تھا، جس کی اپنی معیشت، پولیس اور سرحدی چوکیاں وغیرہ تھیں۔ داعش کی جنگی یا جغرافیائی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ بیس لاکھ سے زیادہ آبادی والا شہر موصل بھی ان کے قبضے میں تھا۔

ہفتہ، 26 مارچ، 2016

آبِ گم از مشتاق احمد یوسفی سے اقتباس

سب سے زیادہ تعجب انہیں اس زبان پر ہوا جو تھانوں میں لکھی اور بولی جاتی ہے۔ رپٹ کنندگان کی حد تک تو بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن منشی جی ایک شخص کو (جس پر ایک لڑکی سے زبردستی نکاح پڑھوانے کا الزام تھا) کو عقدبالجبرکنندہ کہہ رہے تھے۔ عملے کی آپس کی گفتگو سے انہیں اندازہ ہوا کہ تھانہ ہٰذا نے بنی نوع انسان کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ایک وہ جو سزایافتہ ہیں۔ اور دوسرے وہ جو نہیں ہیں، لیکن ہونے چاہییں۔ ملک میں اکثریت غیرسزایافتہ لوگوں کی ہے اور یہی بنائے فتور و فساد ہے۔
گفتگو میں جس کسی کا بھی ذکر آیا، وہ کچھ نہ کچھ "یافتہ" یا "شدہ" ضرور تھا۔ شارع عام پر مشکوک حرکات پر جن دو عورتوں کو گرفتار کیا گیا تھا، ان میں سے ایک کو اے ایس آئی شادی شدہ

اتوار، 21 فروری، 2016

تاریخ اور مبالغہ ۔ ابنِ خلدون کی نظر سے

تاریخ کا فقط ایک مصرف ہے اور وہ یہ کہ اس سے سبق حاصل کیا جائے، عبرت پکڑی جائے، اور اس کی روشنی میں اپنے مستقبل کی راہوں کا تعین کیا جائے۔ بدقسمتی سے من حیث القوم ہم نے تاریخ کا مصرف یہ نکالا ہے کہ اس کے خوشگوار حصوں کا بھجن گایا جائے اور اس کے ناخوشگوار حصوں کا انکار کیا جائے، اور اگر خوشگوار حصوں کی کمی محسوس کریں تو حسبِ توفیق اس میں مبالغہ آرائی کا تڑکا لگانے سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ لیکن تاریخ اور تواریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ چلن صرف ہمارا یا عہدِ حاضر کا ہی نہیں ہے، بلکہ ہمیشہ سے تاریخ میں من پسند و من گھڑت فسانہ نویسی شامل کی جاتی رہی ہے۔

بدھ، 22 اکتوبر، 2014

تمام ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کے خلاف سنچری بنانے والے بلے باز

آج آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن پاکستان کو مشکل حالات سے نکالنے میں سب سے اہم کردار ادا کرنے والے مایہ ناز بلے باز یونس خان پہلے پاکستانی اور مجموعی طور پہ بارہویں بلے باز بن گئے ہیں، جنہوں نے نو ٹیمز (یعنی تمام مخالف ٹیمز) کے خلاف سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔
یہ بات ملحوظ رہے کہ زیادہ پرانے کھلاڑی اس فہرست میں شامل ہی نہیں ہو سکتے، کیونکہ اس وقت ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کی تعداد ہی کم تھی۔

گیری کرسٹن یہ اعزاز حاصل کرنے والا پہلا بلے باز تھا۔ تمام بارہ بلے بازوں کے نام یہ رہے۔

پیر، 20 اکتوبر، 2014

ایم کیو ایم ۔ ایک بار پھر طلاقِ رجعی؟؟

ایم کیو ایم اور ان کی طلاقِ رجعی پر مبنی سیاست کے بارے میں کافی پہلے بھی کچھ لکھا تھا۔ تازہ ترین پیش رفت کے طور پہ ایم کیو ایم نے ایک بار پھر پی پی پی کی سندھ حکومت سے سیاسی طلاق کا اعلان کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اب کے یہ حتمی طلاق ہے یا ایک بار پھر طلاقِ رجعی ہی وقوع پذیر ہونے جا رہی ہے۔

بظاہر تو لگتا ہے کہ اب کے حالات اور سابقہ چار پانچ طلاقِ رجعی والے حالات میں کافی فرق ہے۔ اب ملک کے مجموعی سیاسی حالات بھی کافی مختلف منظر پیش کر رہے ہیں اور انقلابوں اور تبدیلیوں کا دور دورہ ہے۔ اس لئے اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس دفعہ ایم کیو ایم مستقل بنیادوں پہ پی پی پی سے الگ ہو جائے۔ اس بابت بعض تجزیہ نگاروں کی یہ پیشنگوئی بھی قرین قیاس ہو سکتی ہے کہ دھرنا والی جماعتوں یعنی پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کو ایم کیو ایم کی شکل میں ایک اور حلیف ملنے والا ہے۔

بدھ، 2 جولائی، 2014

فال آف جائنٹس از کین فولیٹ

انگلش مصنف کین فولیٹ کا لکھا ناول فال آف جائنٹس دراصل تین ناولز پر مبنی سلسلے کا پہلا ناول ہے۔ اس سلسلے کو سنچری ٹرائیلوجی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ 
پہلے آئی آف دی نیڈل اور اب فال آف جائنٹس پڑھنے کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ جب تاریخی فکشن اور خصوصا" یورپی تاریخ سے متعلق فکشن کی بات ہو تو کین فولیٹ کا کوئی مقابل نہیں۔

آئی آف دی نیڈل کے بعد میں نے کین فولیٹ کے دو مزید ناولز بھی پڑھے تھے۔ وائٹ آؤٹ اور دی تھرڈ ٹوئن۔ دونوں ہی تھرل جینرے کے تھے اور کافی اچھی رینٹنگ وغیرہ کے حامل تھے، لیکن مجھے کافی ایوریج سے لگے۔ خصوصا" جب ان کا مقابلہ یا موازنہ آئی آف دی نیڈل اور فال آف جائنٹس جیسے معرکۃ الآرا ناولز سے کیا جائے۔

پیر، 23 جون، 2014

مبارک ہو!!! انقلاب جہاز سے نکل آیا بالآخر

جیسا کہ سب جانتے ہی ہیں کہ جنابِ کینڈین انقلاب صاحب کو ایک ڈیڑھ سال سے اچانک پاکستان سے محبت ہو گئی ہے اور ان کی روح تک پاکستان میں انقلاب لانے اور ریاست بچانے کے لئے تڑپ تڑپ کے بے چین ہو رہی ہے۔ اس ضمن میں ان پہ کافی کالمز لکھ چکا ہوں اور ہر بار ارادہ کرتا ہوں کہ اب مزید ان پہ نہیں لکھنا، لیکن جنابِ انقلاب صاحب ہر بار کچھ ایسا کر جاتے ہیں کہ ان پہ مزید نہ لکھنے سے تشنگی سی محسوس ہوتی ہے۔

کنٹینر والے انقلاب اور اس کے بعد چند ایک ویڈیو لنک انقلابات بپا کرنے کے بعد اس بار جنابِ انقلاب صاحب نے ایک بار پھر سرزمینِ انقلاب کو اپنی زیارت سے فیض یاب کرنے کا قصد کیا، جس کے لئے غیب سے آئے پیسے، فرشتوں کی اخلاقی امداد اور منہاج القرآن کے تعلیمی اداروں کی استانیوں اور طلبا و طالبات کی انقلاب میں شرکت سے ماحول بنانے کا انتظام و انصرام کیا گیا۔

جمعہ، 13 جون، 2014

شیخ الاسلام صاحب کے لئے تقریر کا مسودہ

جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ قائدِ انقلاب، شیخ الاسلام جناب طاہرالقادری صاحب نے اس بار سردیوں کی بجائے گرمیوں کی کچھ چھٹیاں پاکستان میں گزارنے کا اعلان فرما دیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ اس بار میں ملک میں انقلاب بھی لاؤں گا۔ یہ تقریبا" ایسا ہی ہے جیسے بندہ ٹماٹر لینے دکان پہ جا رہا ہو اور گھر سے کوئی آواز دے کہ ٹماٹر کے ساتھ دھنیا بھی لے کے آنا، سو اسی طرز پہ جناب قادری صاحب اپنی چھٹیوں کو دلچسپ بنانے کے لئے انقلاب کا ڈرامہ بھی رچائیں گے۔
ایسے موقعے پہ ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ان کی کچھ مدد کی جائے۔ اپنے تئیں لکھاری کے دعویدار ہونے کی وجہ سے سب سے بہتر مدد یہی کر سکتے ہیں کہ ان کے لئے ایک عدد تقریر لکھ کے دی جائے۔ سو پیشِ خدمت ہے تقریر کا مسودہ جو کہ ان کی پاکستان آمد سے پہلے کی تقریر کے لئے ہے۔

پیر، 9 جون، 2014

کراچی ایئرپورٹ پہ دہشت گردی اور ماضی کے واقعات

ویسے تو پاکستان میں مکمل امن شاید ہی کبھی موجود رہا ہو، لیکن ماضی قریب میں فاٹا آپریشن شروع کئے جانے کے بعد سے اس ملک نے دہشت گردی کے ایسے ایسے واقعات دیکھے ہیں کہ اب محسوس ہوتا ہے کہ اس سے پہلے تو پاکستان بہت ہی پرسکون اور امن کا گہوارا ہوا کرتا تھا۔

لیکن فاٹا آپریشن کے بعد بہادر کمانڈو المعروف مشرف صاحب نے جب لال مسجد کر دیا تو اس کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کے ایسے ایسے واقعات ہوئے کہ ہالی ووڈ کی ڈائی ہارڈ سیریز جیسی فلموں کو بھی مات کر دیا۔

جمعہ، 6 جون، 2014

ہاؤ ٹو گیٹ فلدی رچ ان رائزنگ ایشیا از محسن حامد

پاکستان سے تعلق رکھنے والے اور انگلش زبان میں ناول یا کتب لکھنے والوں میں عہدِ حاضر کا روشن ترین نام محسن حامد کا ہے۔ جنہوں نے اپنے گزشتہ دو ناولز یعنی دی موتھ سموک اور دی ریلکٹنٹ فنڈامنٹلسٹ سے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ ان کا تیسرا ناول گزشتہ سال شائع ہوا تھا۔ ناول کے نام کا اردو ترجمہ کچھ یوں بنے گا "ترقی پذیر ایشیا میں دھن بنانے کے طریقے"۔ تاہم اصل نام کچھ یوں ہے۔ ہاؤ ٹو گیٹ فلدی رچ ان رائزنگ ایشیا ،،، یعنی
How to Get Filthy Rich in Rising Asia

میں نے یہ ناول کچھ ہی دن قبل ای فارمیٹ میں پڑھا ہے۔ کافی عرصے بعد ایسی فراغت میسر ہوئی تھی کہ ایک ہی دن میں دو نشستوں میں ناول ختم کر کے ہی دم لیا۔ اس ناول کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ محسن حامد نے ایک بار پھر زبردست چیز پیش کی ہے اور اپنے سٹینڈرڈ کو نیچے نہیں آنے دیا۔

بدھ، 4 جون، 2014

الطاف بھائی اور رابطہ کمیٹی کے لئے بیان کا مسودہ

آج کی تازہ ترین پیش رفت (یعنی الطاف حسین صاحب کی حراست) کے سلسلے میں جس طرح سے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے "سچے" بیانات جاری کر کے قوم کو حقائق سے روشناس کرانے کی کوششِ عظیم کی ہے، تو اسی ضمن میں ہم بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ اس رابطہ کمیٹی کی مدد کی جائے اور ان کے لئے ایک ایسے بیان کا مسودہ مہیا کیا جائے جو جامع بھی ہو، "حقیقت" پر بھی مبنی ہو اور ہم سب امید سے ہیں اور مذاق رات وغیرہ کی کمی کا احساس بھی نہ ہونے دے۔
تو پیشِ خدمت ہے جی مجوزہ بیان کا مسودہ

جمعہ، 30 مئی، 2014

ایک "کُوگی" کی داستان

چند ماہ قبل کراچی میں میری ملاقات جرمنی کے دو افراد سے ہوئی جو کہ اپنی کمپنی کے کاروبار کے سلسلے میں یہاں میٹنگ کے لئے آئے تھے۔ ایئرپورٹ کے قریب ایک ہوٹل میں میٹنگ کی گئی۔ اسی دوران کھانے کا وقت ہو گیا تو ہم سب لوگ لنچ والے ہال میں چلے گئے۔ اب بیٹھے کھانا کھا رہے تھے تو گوروں کی عادت کے مطابق یعنی کھانے کے دوران بزنس کی بات نہیں کرتے، بلکہ جنرل گپ شپ کی جاتی ہے، ہم نے بھی ان سے ہلکی پھلکی بات چیت شروع کی۔
میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگ تو یہاں بور ہو رہے ہو گے۔ یہاں نہ تم لوگوں کی گرل فرینڈز ہیں، نہ ہی باہر گھومنے پھرنے کے حالات ہیں اور نہ ہی پینے پلانے کو بارز موجود ہیں۔ گورا صاحب نے کہا کہ باقی سب تو میسر نہیں ہے، لیکن پینے پلانے کو یہاں ہوٹل میں ہی مل جاتا ہے۔ بس اس کے لئے کچھ قواعد و ضوابط کی پابندی کرنی پڑتی ہے جیسے

پیر، 26 مئی، 2014

میلینئم سیریز از سٹیگ لارسن

سویڈن سے تعلق رکھنے والے ناول نگار سٹیگ لارسن پچاس برس کی عمر میں سن دو ہزار چار میں وفات پائی۔ سٹیگ لارسن نے اپنی زندگی میں ایک ناول سیریز لکھنی شروع کی تھی جو کہ اب میلنئم سیریز کے نام سے مشہور ہے۔ سٹیگ لارسن کا ارادہ تو دس ناولز کی سیریز لکھنے کا تھا، تاہم ان کی وفات کی وجہ سے یہ کام ادھورا رہ گیا اور صرف تین ہی حصے شائع ہو سکے اور وہ سب بھی ان کی وفات کے بعد ہی شائع ہوئے۔ یعنی سن دو ہزار پانچ، چھ اور سات میں۔ ان تین حصوں کے نام یہ ہیں۔

The Girl with the Dragon Tattoo (2005)
The Girl Who Played with Fire (2006)
The Girl Who Kicked the Hornets' Nest (2007)

جمعہ، 23 مئی، 2014

زندہ ہیروز کی تلاش

چند ماہ قبل کی بات ہے۔ کسی ٹی وی چینل پہ کسی شاعر یا ادیب کو ایوارڈ دینے کی خبر چلی تو میرے ایک کزن کا پہلا سوال یہ تھا کہ ہائیں!!! کیا یہ بھی فوت ہو گیا ہے؟
اس ایک فقرے میں گویا ہمارے من حیث القوم مزاج اور رویوں کی داستان بیان کر دی گئی۔ میں بہت عرصے سے اس چیز کو دیکھ رہا ہوں کہ کسی بھی شاعر ادیب، فنکار یا ماہرِ فنونِ لطیفہ کے لئے ہیرو بننے (یا ایوارڈ پانے) کی سب سے بڑی کوالیفیکیشن

اتوار، 18 مئی، 2014

آئی آف دی نیڈل از کین فولیٹ

برطانوی ناول نگار کین فولیٹ کا لکھا یہ ناول ابتدا میں "سٹارم آئے لینڈ" کے نام سے بھی چھپا تھا۔ تھرلر ناولز پڑھنے کے شوقین لوگوں کے لئے یہ ایک توشۂ خاص ہے۔ میں اگر اپنی بات کروں تو جتنا لطف اس ناول کو پڑھنے میں آیا، اتنا کم کم ہی کسی ناول میں آیا ہو گا۔ 
یہ ناول دوسری جنگِ عظیم کے دوران انگلینڈ میں موجود ایک جرمن جاسوس کی کہانی کا بیان ہے۔

اتوار، 13 اپریل، 2014

خوش قسمت کون؟

کوئی سال دو پہلے کی بات ہے۔ ایپل کمپنی کے مشہورِ زمانہ بانی سٹیو جابز کی وفات کی خبر سنی تو بہت سے لوگوں کا یہ کمنٹ سننے یا پڑھنے کا موقع ملا کہ امریکہ خوش قسمت ہے کہ اس میں سٹیو جابز جیسے لوگ پیدا ہوئے۔ ایسے کمنٹس کو سن کے یا پڑھ کے جو پہلا خیال میرے ذہن میں آیا، وہ یہ تھا کہ خوش قسمت امریکہ نہیں کہ اس میں سٹیو جابز پیدا ہوا۔ بلکہ خوش قسمت سٹیو جابز تھا کہ وہ امریکہ میں پیدا ہو گیا۔
ذرا سوچیئے کہ اگر سٹیو جابز صاحب شومئیِ قسمت سے ہمارے یہاں پیدا ہو جاتے۔ اول تو سکول کالج کے لیول پہ ہی جناب کا سارا ذوق و شوق و جستجو مر کھپ چکے ہوتے۔ محترم کوئی چھوٹی موٹی اور سچی یا جھوٹی ڈگری کما کے ریلوے یا واپڈا میں اچھی سی نوکری لگنے کے اور پھر چاند سی بہو لانے کے سپنوں سے ہی باہر نہ آ پاتے۔

پیر، 7 اپریل، 2014

میرے عزیز ہم وطنو

پاکستان جب سے بنا ہے، ایک چیز تواتر سے ہر کچھ عرصے بعد ہمارے سامنے آن کھڑی ہوتی ہے، اور وہ ہے میرے عزیز ہم وطنو۔ اس شروعات کے بعد کا جو متن ہے، وہ کم وبیش ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ یعنی کہ ملک و ملت کو عظیم الشان خطرات لاحق ہو چکے تھے، نظریہ پاکستان کو گروی رکھ دیا گیا تھا، کرپشن کا دور دورہ ہو چکا تھا۔ مختصر یہ کہ حالات اس نہج پہ پہنچا دیئے گئے تھے کہ اسلام کے اس قلعے کی حفاطت کے لئے مجھے مجبورا" میرے عزیز ہم وطنو
کرنا پڑ گیا ہے۔ لہٰذا میرے عزیز وطنو! اب تم سب سے التماس ہے کہ مجھے دس بارہ سال کم از کم برداشت کرو اور اس سے اگلے دس بیس سال میرے اثرات و باقیات کو بھی برداشت کر لینا۔

جمعہ، 4 اپریل، 2014

اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز از محمد حنیف

محمد حنیف کے انگریزی زبان میں لکھے گئے اس باکمال ناول نے دنیا بھر میں شہرت پائی۔ بلاشبہ یہ ایک بہت شاندار ناول ہے۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ پاکستانی مصنفین کے لکھے انگلش ناولز میں یہ ناول اور دی ریلکٹینٹ فنڈامینٹلسٹ (از محسن حامد) سب سے بہترین ناول ہیں تو کچھ ایسا غلط نہ ہو گا۔ ناول کا پلاٹ حقیقی کرداروں اور حقیقی سچویشن کو لے کے بنایا گیا ہے۔
بنیادی طور پہ یہ ضیاءالحق کے دور کے آخری چند ماہ کی کہانی بیان کرتا ہے۔ واقعات کی سیکوینسز میں کچھ اصل اور حقیقی ہیں تو کچھ افسانوی ہیں۔ جس کی وجہ سے ناول میں تھرل کی کمی کہیں بھی محسوس نہیں ہوتی۔

بدھ، 21 اگست، 2013

نارسائی

ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں
ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہُوا
جی مچلتا تھا ایک اک شے پر مگر
جیب خالی تھی، کچھ مول لے نہ سکا
لوٹ آیا لئے حسرتیں سینکڑوں

ہفتہ، 17 اگست، 2013

دی سٹینڈ از سٹیفن کنگ

سٹیفن کنگ انگلش فکشن ناول نگاروں میں ایک کافی مشہور و معروف نام ہے اور ان کے بہت سے ناولز بیسٹ سیلر کی فہرستوں میں جگہ پا چکے ہیں۔ میں نے اس سے پہلے سٹیفن کنگ کا کوئی ناول نہیں پڑھا تھا تو سوچا کہ کم از کم ایک ناول ضرور پڑھ لیا جائے، جس سے انہی کے مزید ناولز پڑھنے کے بارے میں فیصلہ کرنے میں بھی سہولت ہو گی۔ سٹیفن کنگ کے ناولز کی فہرست پہ نظر دوڑائی تو سب سے مشہور اور ٹاپ ریٹڈ نام "دی سٹینڈ" کا پایا، چنانچہ اس کو پڑھ ہی ڈالا۔

دی سٹینڈ کے بارے میں سٹیفن کنگ کا خود یہ کہنا ہے کہ میں نے بہت عرصے سے سوچا تھا کہ لارڈ آف دی رنگز کی طرز پہ ایک ناول لکھوں جس کی

جمعہ، 12 جولائی، 2013

ٹیسٹ کرکٹ پہ حکمرانی کی مسلسل جنگ ۔ ایشیز سیریز

ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز تقریباً سوا سو سال پہلے ہوا تھا اور ابتدا سے ہی کرکٹ کے بانی دو ممالک یعنی آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان کانٹے دار اور دلچسپ کرکٹ کے مقابلے دیکھنے کو ملتے رہے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے مابین ایشیز کے نام سے مشہور یہ ٹیسٹ سیریز ہر دو سال بعد تقریباً باقاعدگی سے ہوتی ہے۔ اگرچہ کہ رفتہ رفتہ کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ اور ان کی کرکٹ کے معیار میں بہتری آتی چلی گئی لیکن اس کے باوجود انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ کرکٹ کی جنگ کی اہمیت اور دلچسپی میں کسی دور میں کمی واقع نہ ہوئی۔

جمعہ، 21 جون، 2013

انیس سو چوراسی از جارج آرویل

1984 by George Orwell
یہ ایک غیرمعمولی ناول ہے، جس کو نقاد حضرات بیسویں صدی میں لکھے گئے فکشن کی بہترین کتابوں میں شمار کرتے ہیں۔

جارج آرویل نے یہ ناول انیس سو پچاس میں لکھا تھا۔ ناول کی سیٹنگ اس وقت کے حساب سے مستقبل یعنی انیس سو چوراسی کا زمانہ ہے۔ اور مزید سیٹنگ کچھ یوں ہے کہ دوسری جنگِ عظیم یا کسی بڑی سی جنگ و جدل کے بعد عالمی منظرنامہ کچھ یوں ہے کہ دنیا میں تین ہی بڑے بڑے ملک ہیں، جن کو سپر سٹیٹس کہا گیا ہے۔ ان کے نام یہ ہیں

ہفتہ، 8 جون، 2013

مرڈر آف ہسٹری از کے کے عزیز

تاریخ قوموں کا اثاثہ ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ تاریخ کا سنہری اور بے مثال ہونا ہرگز بھی ضروری نہیں۔ تاریخ کا صرف ایک مقصد ہے کہ اس سے سبق حاصل کیا جائے، عبرت پکڑی جائے۔ نہ کہ اس کے مثبت حصوں کا بھجن گایا جائے اور منفی حصوں کا انکار کیا جائے۔ تاریخ کا مثبت یا منفی ہونا بالکل بھی اس چیز کا ضامن نہیں ہے کہ آپ کا حال کیسا ہے، لیکن ہمارے پیشِ نظر تاریخ سچ پہ منبی ہے یا جھوٹ پہ، اس چیز کا بحیثییتِ قوم ہمارے حال پہ گہرا اثر ہے۔

بدقسمتی سے بحیثییتِ ملک یا قوم ہم بھی ایک ایسے ہی المیے سے دوچار ہیں کہ ہماری تاریخ کو ایسا توڑ مروڑ کر ہمارے سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ بعض اوقات ہنسی آنے لگتی ہے۔

جمعہ، 7 جون، 2013

تبدیلی کی آمد آمد؟

ایک خبر کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف نے کے پی کے سے خواتین کی مخصوص نشستوں کے لئے خواتین کا انتخاب کرتے ہوئے چار میں سے تین نشستیں پرویز خٹک صاحب کی رشتہ دار خواتین کو دے دیں۔ سچ کہوں تو کچھ دن پہلے جب یہ خبر مختلف جگہوں پہ دیکھی تو مجھے یقین ہی نہیں آیا۔ میں نے اس کو سو فیصد جھوٹ سمجھا۔ لیکن اب جبکہ اس کا چرچا چار دانگِ عالم ہے تو میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ تبدیلی آ چکی ہے اور خاندانی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اک نیا پاکستان بن چکا ہے۔ میری تو سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک پارٹی جس کا نعرہ ہی خاندانی سیاست سے چھٹکارا دلانا تھا، اس نے ایسا کرنے کا سوچ کیسے لیا۔

جمعرات، 16 مئی، 2013

شعر از مرزا قتیل

ما را بہ غمزہ کشت و قضا را بہانہ ساخت
خود سوئے ما نہ دید و حیا را بہانہ ساخت
بر دوشِ غیر دستِ نہاد از رہِ کرم
ما را چو دید و لغزشِ پا را بہانہ ساخت
ترجمہ:

جمعرات، 14 مارچ، 2013

دعوتِ فکر

پچھلے دنوں تل ابیب یونیورسٹی اسرائیل نے شعیہ سنی تفریق پہ ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں پوری دنیا سے شعیہ سنی اکابرین شریک ہوئے۔ گمان یہی ہے کہ شرکائے کانفرنس نے یہودیوں کی باتیں غورسے سنی ہوں گی کیونکہ اپنے ممالک میں یہ حضرات ایک دوسرے کی کم ہی سنتے ہیں جس کی بظاہر وجہ روزگارکا متاثر ہونا ہے۔ یقیناً یہودیوں نے شیعہ سنی اختلافات ختم کروانے کی کوشش کی ہو گی لیکن چونکہ اسرائیل کو سب سے بڑا خطرہ ایران سے ہے