ہفتہ, مارچ 26, 2016

آبِ گم از مشتاق احمد یوسفی سے اقتباس

سب سے زیادہ تعجب انہیں اس زبان پر ہوا جو تھانوں میں لکھی اور بولی جاتی ہے۔ رپٹ کنندگان کی حد تک تو بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن منشی جی ایک شخص کو (جس پر ایک لڑکی سے زبردستی نکاح پڑھوانے کا الزام تھا) کو عقدبالجبرکنندہ کہہ رہے تھے۔ عملے کی آپس کی گفتگو سے انہیں اندازہ ہوا کہ تھانہ ہٰذا نے بنی نوع انسان کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ایک وہ جو سزایافتہ ہیں۔ اور دوسرے وہ جو نہیں ہیں، لیکن ہونے چاہییں۔ ملک میں اکثریت غیرسزایافتہ لوگوں کی ہے اور یہی بنائے فتور و فساد ہے۔
گفتگو میں جس کسی کا بھی ذکر آیا، وہ کچھ نہ کچھ "یافتہ" یا "شدہ" ضرور تھا۔ شارع عام پر مشکوک حرکات پر جن دو عورتوں کو گرفتار کیا گیا تھا، ان میں سے ایک کو اے ایس آئی شادی شدہ

اور دوسری کو محض شدہ یعنی گئی گزری بتا رہا تھا۔ ہیڈ کانسٹیبل جو خود انعام یافتہ تھا، وہ کسی وفات یافتہ کا بیانِ نزعی پڑھ کر سنا رہا تھا۔ ایک پرچے میں کسی غنڈے کے غیرقابویافتہ چال چلن کی تفصیلات درج تھیں۔ ایک جگہ آتش زدہ مکانِ مسکونہ کے علاوہ بربادشدہ اسباب اور تباہ شدہ شہرت کے بھی حوالے تھے۔ اے ایس آئی ایک رپورٹ کنندہ سے دورانِ تفتیش پوچھ رہا تھا کہ شخصِ مذکورہ الصدر کی وفات شدگی کا علم تمہیں کب ہوا۔
یہاں ہر فعل فارسی میں ہو رہا تھا، مثلاََ سمن کی تعمیل بذریعہ چسپاندگی، متوفی کی وجہ فوتیدگی، عدم استعمال اور زنگ خوردگی کے باعث جملہ رائفل ہائے تھانہ ہٰذا بمعہ کارتوس ہائے پارینہ کی مرورِ ایام سے خلاص شدگی اور عملے کی حیرانگی۔ اس تھانے میں ہتھیار کی صرف دو قسمیں تھیں۔ دھاردار اور غیردھاردار۔ جس ہتھیار سے گواہ استغاثہ کے سرین پر نیل پڑے اور کاسۂ سر متورم ہوا، اس کے بارے میں روزنامچے میں مرقوم تھا کہ ڈاکٹری معائنہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گواہِ مذکور کو بیچ بازار میں غیردھاردار آلے سے مضروب کیا گیا۔ مراد اس سے جوتا تھا۔

(آبِ گم از مشتاق احمد یوسفی سے اقتباس)

2 تبصرے:

  1. ہاہاہاہا۔
    مجھے علم نہیں تھا آپ بلاگنگ بھی کرتے ہیں۔ جان کر اچھا لگا۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. شکریہ راحیل بھائی۔
    کرنی کیا ہے، بلاگنگ ہم سے ہو جاتی ہے۔ سو گزارہ چلا رہے ہیں۔ ورنہ ہم کیا اور اس بلاگ کی حقیقت کیا۔
    نوازش

    جواب دیںحذف کریں

اپنے خیالات کا اظہار کرنے پہ آپ کا شکرگزار ہوں
آوارہ فکر