بدھ، 22 اکتوبر، 2014

تمام ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کے خلاف سنچری بنانے والے بلے باز

آج آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن پاکستان کو مشکل حالات سے نکالنے میں سب سے اہم کردار ادا کرنے والے مایہ ناز بلے باز یونس خان پہلے پاکستانی اور مجموعی طور پہ بارہویں بلے باز بن گئے ہیں، جنہوں نے نو ٹیمز (یعنی تمام مخالف ٹیمز) کے خلاف سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔
یہ بات ملحوظ رہے کہ زیادہ پرانے کھلاڑی اس فہرست میں شامل ہی نہیں ہو سکتے، کیونکہ اس وقت ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کی تعداد ہی کم تھی۔

گیری کرسٹن یہ اعزاز حاصل کرنے والا پہلا بلے باز تھا۔ تمام بارہ بلے بازوں کے نام یہ رہے۔

منگل، 21 اکتوبر، 2014

تحریکِ انصاف کی نئی اور بہتر احتجاجی حکمت عملی

چند ماہ قبل سے پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے موجودہ حکومت (یا موجودہ نظام کہہ لیں) کے خلاف تحریک کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ میرے لئے ابتدا میں سب سے حیرت انگیز عنصر ان دونوں مختلف الخیال جماعتوں کی پلاننگ اور ٹائمنگ میں اتفاقیہ طور پہ ہم آہنگی تھی۔ ہر ذی شعور یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ حیران کن مطابقت کیسے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ خیر دو ماہ گزرنے کے بعد اس بابت کافی کچھ سامنے آ چکا ہے، جس میں باغی صاحب کی معروضات بھی شامل ہیں۔ اس لئے اس بابت مزید بات کی ضرورت نہیں ہے۔

سوموار، 20 اکتوبر، 2014

ایم کیو ایم ۔ ایک بار پھر طلاقِ رجعی؟؟

ایم کیو ایم اور ان کی طلاقِ رجعی پر مبنی سیاست کے بارے میں کافی پہلے بھی کچھ لکھا تھا۔ تازہ ترین پیش رفت کے طور پہ ایم کیو ایم نے ایک بار پھر پی پی پی کی سندھ حکومت سے سیاسی طلاق کا اعلان کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اب کے یہ حتمی طلاق ہے یا ایک بار پھر طلاقِ رجعی ہی وقوع پذیر ہونے جا رہی ہے۔

بظاہر تو لگتا ہے کہ اب کے حالات اور سابقہ چار پانچ طلاقِ رجعی والے حالات میں کافی فرق ہے۔ اب ملک کے مجموعی سیاسی حالات بھی کافی مختلف منظر پیش کر رہے ہیں اور انقلابوں اور تبدیلیوں کا دور دورہ ہے۔ اس لئے اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس دفعہ ایم کیو ایم مستقل بنیادوں پہ پی پی پی سے الگ ہو جائے۔ اس بابت بعض تجزیہ نگاروں کی یہ پیشنگوئی بھی قرین قیاس ہو سکتی ہے کہ دھرنا والی جماعتوں یعنی پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کو ایم کیو ایم کی شکل میں ایک اور حلیف ملنے والا ہے۔

بدھ، 2 جولائی، 2014

فال آف جائنٹس از کین فولیٹ

انگلش مصنف کین فولیٹ کا لکھا ناول فال آف جائنٹس دراصل تین ناولز پر مبنی سلسلے کا پہلا ناول ہے۔ اس سلسلے کو سنچری ٹرائیلوجی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ 
پہلے آئی آف دی نیڈل اور اب فال آف جائنٹس پڑھنے کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ جب تاریخی فکشن اور خصوصا" یورپی تاریخ سے متعلق فکشن کی بات ہو تو کین فولیٹ کا کوئی مقابل نہیں۔

آئی آف دی نیڈل کے بعد میں نے کین فولیٹ کے دو مزید ناولز بھی پڑھے تھے۔ وائٹ آؤٹ اور دی تھرڈ ٹوئن۔ دونوں ہی تھرل جینرے کے تھے اور کافی اچھی رینٹنگ وغیرہ کے حامل تھے، لیکن مجھے کافی ایوریج سے لگے۔ خصوصا" جب ان کا مقابلہ یا موازنہ آئی آف دی نیڈل اور فال آف جائنٹس جیسے معرکۃ الآرا ناولز سے کیا جائے۔

سوموار، 23 جون، 2014

مبارک ہو!!! انقلاب جہاز سے نکل آیا بالآخر

جیسا کہ سب جانتے ہی ہیں کہ جنابِ کینڈین انقلاب صاحب کو ایک ڈیڑھ سال سے اچانک پاکستان سے محبت ہو گئی ہے اور ان کی روح تک پاکستان میں انقلاب لانے اور ریاست بچانے کے لئے تڑپ تڑپ کے بے چین ہو رہی ہے۔ اس ضمن میں ان پہ کافی کالمز لکھ چکا ہوں اور ہر بار ارادہ کرتا ہوں کہ اب مزید ان پہ نہیں لکھنا، لیکن جنابِ انقلاب صاحب ہر بار کچھ ایسا کر جاتے ہیں کہ ان پہ مزید نہ لکھنے سے تشنگی سی محسوس ہوتی ہے۔

کنٹینر والے انقلاب اور اس کے بعد چند ایک ویڈیو لنک انقلابات بپا کرنے کے بعد اس بار جنابِ انقلاب صاحب نے ایک بار پھر سرزمینِ انقلاب کو اپنی زیارت سے فیض یاب کرنے کا قصد کیا، جس کے لئے غیب سے آئے پیسے، فرشتوں کی اخلاقی امداد اور منہاج القرآن کے تعلیمی اداروں کی استانیوں اور طلبا و طالبات کی انقلاب میں شرکت سے ماحول بنانے کا انتظام و انصرام کیا گیا۔

جمعہ، 13 جون، 2014

شیخ الاسلام صاحب کے لئے تقریر کا مسودہ

جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ قائدِ انقلاب، شیخ الاسلام جناب طاہرالقادری صاحب نے اس بار سردیوں کی بجائے گرمیوں کی کچھ چھٹیاں پاکستان میں گزارنے کا اعلان فرما دیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ اس بار میں ملک میں انقلاب بھی لاؤں گا۔ یہ تقریبا" ایسا ہی ہے جیسے بندہ ٹماٹر لینے دکان پہ جا رہا ہو اور گھر سے کوئی آواز دے کہ ٹماٹر کے ساتھ دھنیا بھی لے کے آنا، سو اسی طرز پہ جناب قادری صاحب اپنی چھٹیوں کو دلچسپ بنانے کے لئے انقلاب کا ڈرامہ بھی رچائیں گے۔
ایسے موقعے پہ ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ان کی کچھ مدد کی جائے۔ اپنے تئیں لکھاری کے دعویدار ہونے کی وجہ سے سب سے بہتر مدد یہی کر سکتے ہیں کہ ان کے لئے ایک عدد تقریر لکھ کے دی جائے۔ سو پیشِ خدمت ہے تقریر کا مسودہ جو کہ ان کی پاکستان آمد سے پہلے کی تقریر کے لئے ہے۔

سوموار، 9 جون، 2014

کراچی ایئرپورٹ پہ دہشت گردی اور ماضی کے واقعات

ویسے تو پاکستان میں مکمل امن شاید ہی کبھی موجود رہا ہو، لیکن ماضی قریب میں فاٹا آپریشن شروع کئے جانے کے بعد سے اس ملک نے دہشت گردی کے ایسے ایسے واقعات دیکھے ہیں کہ اب محسوس ہوتا ہے کہ اس سے پہلے تو پاکستان بہت ہی پرسکون اور امن کا گہوارا ہوا کرتا تھا۔

لیکن فاٹا آپریشن کے بعد بہادر کمانڈو المعروف مشرف صاحب نے جب لال مسجد کر دیا تو اس کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کے ایسے ایسے واقعات ہوئے کہ ہالی ووڈ کی ڈائی ہارڈ سیریز جیسی فلموں کو بھی مات کر دیا۔

جمعہ، 6 جون، 2014

ہاؤ ٹو گیٹ فلدی رچ ان رائزنگ ایشیا از محسن حامد

پاکستان سے تعلق رکھنے والے اور انگلش زبان میں ناول یا کتب لکھنے والوں میں عہدِ حاضر کا روشن ترین نام محسن حامد کا ہے۔ جنہوں نے اپنے گزشتہ دو ناولز یعنی دی موتھ سموک اور دی ریلکٹنٹ فنڈامنٹلسٹ سے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ ان کا تیسرا ناول گزشتہ سال شائع ہوا تھا۔ ناول کے نام کا اردو ترجمہ کچھ یوں بنے گا "ترقی پذیر ایشیا میں دھن بنانے کے طریقے"۔ تاہم اصل نام کچھ یوں ہے۔ ہاؤ ٹو گیٹ فلدی رچ ان رائزنگ ایشیا ،،، یعنی
How to Get Filthy Rich in Rising Asia

میں نے یہ ناول کچھ ہی دن قبل ای فارمیٹ میں پڑھا ہے۔ کافی عرصے بعد ایسی فراغت میسر ہوئی تھی کہ ایک ہی دن میں دو نشستوں میں ناول ختم کر کے ہی دم لیا۔ اس ناول کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ محسن حامد نے ایک بار پھر زبردست چیز پیش کی ہے اور اپنے سٹینڈرڈ کو نیچے نہیں آنے دیا۔

بدھ، 4 جون، 2014

الطاف بھائی اور رابطہ کمیٹی کے لئے بیان کا مسودہ

آج کی تازہ ترین پیش رفت (یعنی الطاف حسین صاحب کی حراست) کے سلسلے میں جس طرح سے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے "سچے" بیانات جاری کر کے قوم کو حقائق سے روشناس کرانے کی کوششِ عظیم کی ہے، تو اسی ضمن میں ہم بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ اس رابطہ کمیٹی کی مدد کی جائے اور ان کے لئے ایک ایسے بیان کا مسودہ مہیا کیا جائے جو جامع بھی ہو، "حقیقت" پر بھی مبنی ہو اور ہم سب امید سے ہیں اور مذاق رات وغیرہ کی کمی کا احساس بھی نہ ہونے دے۔
تو پیشِ خدمت ہے جی مجوزہ بیان کا مسودہ

جمعہ، 30 مئی، 2014

ایک "کُوگی" کی داستان

چند ماہ قبل کراچی میں میری ملاقات جرمنی کے دو افراد سے ہوئی جو کہ اپنی کمپنی کے کاروبار کے سلسلے میں یہاں میٹنگ کے لئے آئے تھے۔ ایئرپورٹ کے قریب ایک ہوٹل میں میٹنگ کی گئی۔ اسی دوران کھانے کا وقت ہو گیا تو ہم سب لوگ لنچ والے ہال میں چلے گئے۔ اب بیٹھے کھانا کھا رہے تھے تو گوروں کی عادت کے مطابق یعنی کھانے کے دوران بزنس کی بات نہیں کرتے، بلکہ جنرل گپ شپ کی جاتی ہے، ہم نے بھی ان سے ہلکی پھلکی بات چیت شروع کی۔
میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگ تو یہاں بور ہو رہے ہو گے۔ یہاں نہ تم لوگوں کی گرل فرینڈز ہیں، نہ ہی باہر گھومنے پھرنے کے حالات ہیں اور نہ ہی پینے پلانے کو بارز موجود ہیں۔ گورا صاحب نے کہا کہ باقی سب تو میسر نہیں ہے، لیکن پینے پلانے کو یہاں ہوٹل میں ہی مل جاتا ہے۔ بس اس کے لئے کچھ قواعد و ضوابط کی پابندی کرنی پڑتی ہے جیسے

سوموار، 26 مئی، 2014

میلینئم سیریز از سٹیگ لارسن

سویڈن سے تعلق رکھنے والے ناول نگار سٹیگ لارسن پچاس برس کی عمر میں سن دو ہزار چار میں وفات پائی۔ سٹیگ لارسن نے اپنی زندگی میں ایک ناول سیریز لکھنی شروع کی تھی جو کہ اب میلنئم سیریز کے نام سے مشہور ہے۔ سٹیگ لارسن کا ارادہ تو دس ناولز کی سیریز لکھنے کا تھا، تاہم ان کی وفات کی وجہ سے یہ کام ادھورا رہ گیا اور صرف تین ہی حصے شائع ہو سکے اور وہ سب بھی ان کی وفات کے بعد ہی شائع ہوئے۔ یعنی سن دو ہزار پانچ، چھ اور سات میں۔ ان تین حصوں کے نام یہ ہیں۔

The Girl with the Dragon Tattoo (2005)
The Girl Who Played with Fire (2006)
The Girl Who Kicked the Hornets' Nest (2007)

جمعہ، 23 مئی، 2014

زندہ ہیروز کی تلاش

چند ماہ قبل کی بات ہے۔ کسی ٹی وی چینل پہ کسی شاعر یا ادیب کو ایوارڈ دینے کی خبر چلی تو میرے ایک کزن کا پہلا سوال یہ تھا کہ ہائیں!!! کیا یہ بھی فوت ہو گیا ہے؟
اس ایک فقرے میں گویا ہمارے من حیث القوم مزاج اور رویوں کی داستان بیان کر دی گئی۔ میں بہت عرصے سے اس چیز کو دیکھ رہا ہوں کہ کسی بھی شاعر ادیب، فنکار یا ماہرِ فنونِ لطیفہ کے لئے ہیرو بننے (یا ایوارڈ پانے) کی سب سے بڑی کوالیفیکیشن

اتوار، 18 مئی، 2014

آئی آف دی نیڈل از کین فولیٹ

برطانوی ناول نگار کین فولیٹ کا لکھا یہ ناول ابتدا میں "سٹارم آئے لینڈ" کے نام سے بھی چھپا تھا۔ تھرلر ناولز پڑھنے کے شوقین لوگوں کے لئے یہ ایک توشۂ خاص ہے۔ میں اگر اپنی بات کروں تو جتنا لطف اس ناول کو پڑھنے میں آیا، اتنا کم کم ہی کسی ناول میں آیا ہو گا۔ 
یہ ناول دوسری جنگِ عظیم کے دوران انگلینڈ میں موجود ایک جرمن جاسوس کی کہانی کا بیان ہے۔

اتوار، 11 مئی، 2014

نئی سیاسی صف بندی کا آغاز؟

ویسے تو سیاسی صف بندی دائیں اور بائیں بازو کے درمیان ہوا کرتی ہے، یا انتہاپسند اور اعتدال پسند نظریات کے حامل دھڑوں کے مابین۔ لیکن پاکستان میں کچھ مختلف قسم کی سیاسی صف بندی کا بھی رواج چلتا رہا ہے، جو کئی عشروں سے مختلف ناموں اور مختلف شکلوں سے سامنے آتا رہا ہے۔ یہ ہے جمہوری اور غیرجمہوری قوتوں کی صف بندی۔

ہفتہ، 3 مئی، 2014

سونامی صاحب کا ذہنی دیوالیہ پن

ویسے تو جنابِ عمران خان صاحب گزشتہ کچھ ماہ سے کافی ٹھیک جا رہے تھے۔ خصوصا" ان کی فاٹا آپریشن کی بجائے مذاکرات سے مسئلہ حل کرنے کے موقف پہ سختی سے قائم رہنے اور نتیجتا" ملک میں گزشتہ چند ماہ میں نسبتا" پرامن حالات ہونا کافی بہتر اپروچ لگ رہا تھا۔ ان کے لئے میرے پسندیدگی کے گراف میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔
لیکن گزرے چند دن میں جناب قائدِ انقلاب نے کچھ ایسے کارنامے کر ڈالے ہیں کہ مجھے تو خطرہ محسوس ہونے لگا ہے کہ شاید جناب کے سر پہ چوٹ لگی ہے

اتوار، 13 اپریل، 2014

خوش قسمت کون؟

کوئی سال دو پہلے کی بات ہے۔ ایپل کمپنی کے مشہورِ زمانہ بانی سٹیو جابز کی وفات کی خبر سنی تو بہت سے لوگوں کا یہ کمنٹ سننے یا پڑھنے کا موقع ملا کہ امریکہ خوش قسمت ہے کہ اس میں سٹیو جابز جیسے لوگ پیدا ہوئے۔ ایسے کمنٹس کو سن کے یا پڑھ کے جو پہلا خیال میرے ذہن میں آیا، وہ یہ تھا کہ خوش قسمت امریکہ نہیں کہ اس میں سٹیو جابز پیدا ہوا۔ بلکہ خوش قسمت سٹیو جابز تھا کہ وہ امریکہ میں پیدا ہو گیا۔
ذرا سوچیئے کہ اگر سٹیو جابز صاحب شومئیِ قسمت سے ہمارے یہاں پیدا ہو جاتے۔ اول تو سکول کالج کے لیول پہ ہی جناب کا سارا ذوق و شوق و جستجو مر کھپ چکے ہوتے۔ محترم کوئی چھوٹی موٹی اور سچی یا جھوٹی ڈگری کما کے ریلوے یا واپڈا میں اچھی سی نوکری لگنے کے اور پھر چاند سی بہو لانے کے سپنوں سے ہی باہر نہ آ پاتے۔

سوموار، 7 اپریل، 2014

میرے عزیز ہم وطنو

پاکستان جب سے بنا ہے، ایک چیز تواتر سے ہر کچھ عرصے بعد ہمارے سامنے آن کھڑی ہوتی ہے، اور وہ ہے میرے عزیز ہم وطنو۔ اس شروعات کے بعد کا جو متن ہے، وہ کم وبیش ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ یعنی کہ ملک و ملت کو عظیم الشان خطرات لاحق ہو چکے تھے، نظریہ پاکستان کو گروی رکھ دیا گیا تھا، کرپشن کا دور دورہ ہو چکا تھا۔ مختصر یہ کہ حالات اس نہج پہ پہنچا دیئے گئے تھے کہ اسلام کے اس قلعے کی حفاطت کے لئے مجھے مجبورا" میرے عزیز ہم وطنو
کرنا پڑ گیا ہے۔ لہٰذا میرے عزیز وطنو! اب تم سب سے التماس ہے کہ مجھے دس بارہ سال کم از کم برداشت کرو اور اس سے اگلے دس بیس سال میرے اثرات و باقیات کو بھی برداشت کر لینا۔

جمعہ، 4 اپریل، 2014

اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز از محمد حنیف

محمد حنیف کے انگریزی زبان میں لکھے گئے اس باکمال ناول نے دنیا بھر میں شہرت پائی۔ بلاشبہ یہ ایک بہت شاندار ناول ہے۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ پاکستانی مصنفین کے لکھے انگلش ناولز میں یہ ناول اور دی ریلکٹینٹ فنڈامینٹلسٹ (از محسن حامد) سب سے بہترین ناول ہیں تو کچھ ایسا غلط نہ ہو گا۔ ناول کا پلاٹ حقیقی کرداروں اور حقیقی سچویشن کو لے کے بنایا گیا ہے۔
بنیادی طور پہ یہ ضیاءالحق کے دور کے آخری چند ماہ کی کہانی بیان کرتا ہے۔ واقعات کی سیکوینسز میں کچھ اصل اور حقیقی ہیں تو کچھ افسانوی ہیں۔ جس کی وجہ سے ناول میں تھرل کی کمی کہیں بھی محسوس نہیں ہوتی۔