سوموار، 20 جون، 2011

مکالمہ نویسی پہ ایک لیکچر

درج ذیل لیکچر کچھ ہونہار مصنفین کے لئے لکھا گیا تھا۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
معزز مصنفین السلام علیکم

سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تسی سب رائٹر ہو اور میں ٹھہرا ریڈر۔ تو آپ سب کو لکھنے کے بارے میں لیکچر دینے کی کوشش کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کمپونڈر ڈاکٹر کو سرجری سکھانے بیٹھ جائے یا بابر علی بیٹھ کے شاہ رخ خان کو ایکٹنگ کا لیکچر دے رہا ہو۔

لیکن خیر دل کی تسلی کو پھر بھی لکھ رہا ہوں۔ اس کو زیادہ سنجیدہ نہ بھی لیا جائے تو چلے گا۔

مکالمہ نویسی کیوں ضروری ہے؟

میری نظر میں مکالمہ نویسی یعنی ڈائیلاگ لکھنا کسی بھی ادبی تحریر کا اہم ترین حصہ ہے۔ میں اس کو اہم ترین اس لئے سمجھتا ہوں کہ مکالمہ تحریر کا وہ حصہ ہے جس میں لکھاری کسی بھی بات کو بہترین طریقے سے ایکسپریس کر سکتا ہے، کسی چیز کو سمجھا سکتا ہے یا کسی بھی چیز پہ زور دے سکتا ہے۔

اسی کے ساتھ ساتھ مکالمے ہی کسی بھی کتاب یا ناول کا وہ حصہ ہیں جن میں آپ کو رائج الوقت قسم کی زبان پڑھنے کو یا سیکھنے کو مل سکتی ہے جو کہ ٹیکسٹ بک یا گرامر پڑھنے سے نہ سیکھی جا سکے۔ اگر بات سمجھ نہیں آئی تو درج ذیل مثال سے سمجھ آ جائے شاید۔

Today Joseph went to see Peter in hospital. "how u doin' Johny?" Joseph asked
"I'm fine, man!" Peter replied

اوپر والی چند سطروں میں سے اگر مکالمہ جات کو نکال دیا جائے تو تحریر کچھ یوں ہو گی۔

Today Joseph went to see Peter in hospital. He asked about his health and Peter told that he was ok.

اوپر دی گئی دونوں سچوئیشنز میں بات تو ایک جیسی بیان کر دی گئی ہے۔ لیکن پہلی صورت میں آپ کو دو ایسے جملے پڑھنے یا سیکھنے کو ملے جو کہ عام بول چال میں استعمال ہوتے ہیں، لیکن صرف انگلش گرامر پڑھنے سے شاید نہ آ سکتے۔ اس کا فائدہ آپ کو بھی یوں ہو سکتا ہے کہ اب آپ بھی ان فقرات سے اجنبی نہیں رہے۔

اسی وجہ سے موجودہ دور میں کسی بھی زبان کو سیکھنے کا ایک اہم ذریعہ ناولز یا کہانیاں بھی ہیں کہ ان میں عام بات چیت کا انداز اور زبانِ زدِ عام غیرگرامری بات چیت کا سٹائل بھی دیکھنے کو مل جاتا ہے۔


ایک اور مثال دیکھئے

بغیر ڈائیلاگ کے:
سلیمان نے عمران سے پوچھا کہ وہ چائے میں کتنی چینی لے گا۔

ڈائیلاگ کے ساتھ:
سلیمان بولا۔ "چائے میں شکر کتنی لیجئے گا حضور!"۔
سلیمان بولا۔ "صاحب جی! چائے میں کتنی چینی ڈالوں؟"۔
سلیمان بولا۔ "جناب! آپ چائے میں کتنی چینی لیں گے؟"۔


مثال شاید بہت واضح نہ ہو، لیکن بتانا یہ مقصود ہے کہ ایک ہی جملے کو مختلف انداز میں لکھنے سے کرداروں کی باہمی بے تکلفی سے لے کر ان کی بول چال کا انداز تک ایکسپریس کیا جا سکتا ہے۔ اسی جملے سے ستر سال پہلے کی اردو کا ماحول بھی پیدا کیا جا سکتا ہے اور اسی جملے سے یہ بھی جتلایا جا سکتا ہے کہ یہ عہدِ حاضر کے کردار ہیں۔ جبکہ اسی بات کو پہلے جب بغیر ڈائیلاگ کے بیان کیا گیا تو اس میں ابھی بیان کردہ نکات کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔



مکالمہ جات اور نقاد

اسی وجہ سے نقاد جب کسی بھی تحریر، ناول، کہانی یا افسانے کا تجزیہ کرتے ہیں تو ڈائیلاگز ان کی توجہ کا خاص مرکز ہوتے ہیں۔ اور عموما" ایسی تحاریر زیادہ سراہی جاتی ہیں جن میں زیادہ مکالمہ نویسی سے کام لیا گیا ہو۔ وجہ وہی ہے کہ مصنف کی زباندانی کا اصل امتحان اور کمال مکالموں میں ہی سامنے آتا ہے۔


مکالمہ نویسی کا اوجِ کمال

مکالمہ نویسی کے فن کا عروج ہمیں نظر آئے گا ادبی ڈراموں میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈرامے میں صرف اور صرف مکالمے ہی ہوتے ہیں۔ انہی کی مدد سے لکھاری نے کہانی کا اتار چڑھاؤ بھی بیان کرنا ہے، انہی کی مدد سے کرداروں سے متعارف کرانا ہے، انہی سے جذباتی کیفیات بھی بیان کرنی ہیں۔ انہی سے کہانی کو کلائمکس کی جانب لے کے جانا ہے اور انہی سے کہانی کے بیانیہ حصوں (یعنی جو ویسے مکالموں کے بغیر ہوتے) کو بھی واضح کرنا ہے۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اردو میں آغا حشر اور انگلش میں شیکسپیئر کے ڈرامے مکالمہ نویسی کے اعلٰی ترین شاہکار کہے جا سکتے ہیں۔

یہ تو ہوا بیک گراؤنڈ۔ اب لیکچر شروع کرتے ہیں۔

لیکچر کا موضوع یہی ہے کہ مکالمہ نویسی میں کن کن چیزوں کا خیال رکھا جائے۔ جو نکات میرے ذہن میں آ رہے ہیں، وہ لکھ رہا ہوں۔ باقی ساتھی بھی یقینا" اس میں گراں قدر اضافہ کریں گے۔


مکالمہ کردار کا ہے، آپ کا نہیں

کہنے کا مقصد ہے کہ اگر کسی کردار سے کوئی مکالمہ کہلوانا ہے تو اس مکالمے کی لفاظی اس کردار کے لحاظ سے ہونی چاہئے۔ کافی دفعہ یہ غلطی کر دی جاتی ہے کہ مکالمہ لکھتے وقت لکھاری غیر ارادی طور پہ اپنے بولنے کے انداز میں بات کو وہاں لکھ دیتا ہے۔

مثال کے طور پہ مجھ سے اگر کوئی کہے کہ کھانا کب کھاؤ گے اور میں نے شام کو کھانا ہو تو میرا کہنے کا انداز کچھ یوں ہو گا "شام کو ہی کھاؤں گا"۔
لیکن اگر ایسی ہی بات کسی کہانی میں کسی کردار سے کہلوانی ہے تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ بات اس کردار کے مطابق کہی جائے۔

اگر ڈیڑھ سو سال پہلے کے لکھنؤ کا کوئی کردار ہے تو اسی بات کو کچھ یوں کہہ سکتا ہے "ہم شام کو طعام کرنا پسند کریں گے"۔

اگر کوئی دیہات کا کردار ہے تو کچھ یوں کہہ سکتا ہے "میں تو شام کو ہی روٹی کھاؤں گا"۔
وغیرہ وغیرہ


مکالمہ کردار کے مطابق ہو

یہ بات بھی اوپر بیان کی گئی بات سے ملتی جلتی ہے کہ مکالمے لکھتے وقت خیال رکھنا چاہئے کہ کردار کیا ہے۔ ایک عالم فاضل کردار کے مکالمہ جات سے اس کی شخصیت کا اظہار ہونا چاہئے۔ اسی طرح ایک ملازم کے ڈائیلاگ شستہ اردو میں ہوں گے تو عجیب و غریب لگے گا۔

اگر کردار کو فلموں کا شوقین دکھایا گیا ہے تو اس کے ڈائیلاگ میں اس کی جھلک نظر آ سکتی ہے۔
اسی طرح زنانہ اور مردانہ کرداروں کے مکالموں میں بھی کچھ فرق ہو سکتا ہے۔

اگر کردار سو سال پہلے کے لکھنؤ کا ہے تو اس کی زبان اسی کے حساب سے ہونی چاہئے۔
اسی طرح اگر سرائیکی علاقے کا کردار ہے تو اس کے ڈائیلاگز میں کچھ کچھ جھلک سرائیکی کی بھی دکھائی دے جائے تو بہتر ہے۔

اسی ضمن میں ایک مثال رشتوں کو پکارنے کی ہے۔ کسی علاقے میں والد کو ابا جی کہتے ہیں تو کہیں ابو۔ کہیں ابا حضور کہنے کی ضرورت پڑے گی تو کہیں بابا جان۔


ڈائریکٹ، اِن ڈائریکٹ کا خیال رکھیں

اس بات کو بھی مثال سے واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

بغیر ڈائیلاگ کے:
دادی نے شبانہ کو کہا کہ وہ جا کے سو جائے۔

اس نے مجھ سے پوچھا کہ میری عمر کیا ہے؟

ڈائیلاگ میں:
دادی نے شبانہ سے کہا "تم جا کے سو جاؤ"۔

اس نے مجھ سے کہا "تمہاری عمر کیا ہے؟"۔


اگر مرکب جملہ ہو گا تو اس میں تم اور وہ کا مزید خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ جیسے

بغیر ڈائیلاگ کے:
دادی نے شبانہ کو کہا کہ وہ جا کے سو جائے اور اشرف کو کہہ دے کہ وہ باہر کا تالا لگا دے۔

ڈائیلاگ میں:
دادی نے شبانہ سے کہا "تم جا کے سو جاؤ۔ اشرف کو کہنا کہ وہ باہر کا تالا لگا دے"۔


مکالموں کی لمبائی کیسی ہو؟

اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ کہاں مکالمے والی بات کو لمبا کرنا ہے اور کہاں اختصار سے کام لینا ہے۔
عمومی تاثر یہ ہے کہ لمبے لمبے مکالمے تحریر کو بور کر دیتے ہیں۔ لیکن بعض جگہ پہ لمبے مکالمہ جات تحریر کی مجبوری بھی ہوتے ہیں۔ جیسے اگر تحریر میں کسی علمی یا مذہبی شخصیت کے ساتھ کسی نشست کا تذکرہ آ جائے جس میں سیر حاصل بحث دکھانا مقصود ہو تو اس کیس میں لمبے مکالموں کے بغیر کوئی چارہ ممکن نہیں۔

لیکن عام ناول، افسانوں وغیرہ میں کوشش یہی کی جانی چاہئے کہ ڈائیلاگ جس حد تک مختصر ہوں۔ پاکستانی ناولز میں یہ مشاہدہ عام ہے کہ لمبے لمبے ڈائیلاگز لکھ کے ناول کو ضخیم تو کر دیا جاتا ہے، لیکن اس کی وجہ سے ناول بور بھی ہو جاتا ہے۔


مکالمے اور عام بول چال میں فرق

ویسے تو مکالموں میں بات چیت اسی طرح لکھنے کی کوشش کرنا ہی بہتر ہوتا ہے جیسے کہ عام بات چیت کا انداز ہوتا ہے۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ روزمرہ بات چیت میں کچھ خصائص ایسے آ چکے ہیں، جن کو کسی ادبی تحریر میں شامل نہ کیا جائے تو بہتر ہے۔
مثال کے طور پہ

عام بات چیت میں ہم کہتے ہیں کہ ایک بندہ کہیں جا رہا تھا۔ وغیرہ

اس کو ادبی تحریر میں ایک شخص یا ایک آدمی لکھنا زیادہ بہتر رہے گا۔

اسی طرح عام طور پہ زبانی لطیفہ سنایا جائے تو کچھ یوں سنایا جاتا ہے "ایک لڑکا سکول جاتا ہے تو اس سے استاد سوال پوچھتا ہے۔ لڑکا پریشان ہو کے کہتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ"۔

اس کی بجائے ادبی تحریر میں کچھ یوں لکھنا زیادہ بہتر ہو گا "ایک لڑکا سکول گیا تو استاد نے اس سے سوال پوچھا۔ لڑکے نے پریشان ہو کے کہا۔ وغیرہ"۔


تحریر میں مکالموں کا تناسب کس حد تک ہو؟

اس سوال کا حتمی جواب تو نہیں دیا جا سکتا۔ یہ تو تحریر کے موضوع، لکھنے والے کے اندازِ بیان پہ منحصر ہے کہ وہ اپنی تحریر میں مکالموں کو کس حد تک جگہ دینا پسند کرتا ہے۔

تاہم اس ضمن میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مکالموں کا تناسب ایسا ہو کہ پڑھنے والوں کو یہ محسوس نہ ہو کہ غیرضروری مکالمہ بازی سے کام لیا گیا ہے اور جو بات بغیر مکالمے کے بھی بتائی جا سکتی تھی، وہ بھی مکالموں کی صورت میں دی جا رہی ہے۔


مکالمہ نویسی سیکھنے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟

اس کے لئے کچھ خاص نہیں کرنا۔ کتابیں، ناولز وغیرہ تو سب ہی پڑھتے ہیں۔ تو انہی کو پڑھنا جاری رکھیں۔ بس آئندہ سے ان کو پڑھتے وقت مکالموں پہ پہلے سے زیادہ غور کریں۔ جملوں کی بناوٹ، الفاظ کا استعمال، مکالمے کی لمبائی، محاورے وغیرہ پہ خاص غور کریں۔
اسی طرح فلموں یا ڈراموں میں بھی کرداروں کے ڈائیلاگز پہ غور کرنا شروع کریں۔ اور دل ہی دل میں اس چیز کا تجزیہ کرتے جائیں کہ کیا مکالمے اس کردار اور کہانی سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں؟ کیا یہاں پہ ایسا ڈائیلاگ سوٹ کر رہا ہے یا نہیں؟ وغیرہ وغیرہ

کچھ عرصے بعد ہی آپ کو لگے گا کہ اب آپ مکالمہ نویسی کے ماہر ہوتے جا رہے ہیں۔


اس کے ساتھ ہی یہ لیکچر ہوا ختم۔
آپ سب کا بہت شکریہ

4 تبصرے:

  1. بہت خوب جناب
    یہ تو سرجن ہی سرجری سیکھا رہا ہے جی۔ ۔
    بہت عمدہ اور کار آمد نکات بتائے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. استاد جی بہت ہی خوب۔۔۔ یہ پی پی میں شامل ہو گئے ہیں کیا؟

    جواب دیںحذف کریں
  3. شکریہ شاگردِ عزیز

    ایسے ہی رنگولی کھیلنے کو دل کر گیا تھا بھائی۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. محمد حزیفہاکتوبر 27, 2015

    بہت اعلیٰ ہے استاد محترم کا لیکچر بہت خوب بہت عمدہ

    جواب دیںحذف کریں

اپنے خیالات کا اظہار کرنے پہ آپ کا شکرگزار ہوں
آوارہ فکر