ہفتہ، 11 فروری، 2017

کابل از صائب تبریزی

کابل از صائب تبریزی
(انگریزی ترجمہ: جوزفین ڈیوس)

خوشا عشرت سرای کابل و دامان کهسارش
که ناخن بر دل گل می زند مژگان هر خارش
خوشا وقتی که چشمم از سوادش سرمه چین گردد
شوم چون عاشقان و عارفان از جان گرفتارش
Ah! How beautiful is Kabul encircled by her arid mountains
And Rose, of the trails of thorns she envies
Her gusts of powdered soil, slightly sting my eyes
But I love her, for knowing and loving are born of this same dust

منگل، 31 جنوری، 2017

رات اور شاعر

نجانے اس کا تعلق ہماری شب بیداری کی دیرینہ عادت سے ہے یا کچھ اور وجہ ہے۔ تاہم وجہ جو بھی ہو، علامہ اقبال کی یہ نظم ہماری پسندیدہ نظموں میں سے ایک ہے۔



رات

کیوں میری چاندنی میں پھرتا ہے تو پریشاں
خاموش صورت گل ، مانند بو پریشاں

تاروں کے موتیوں کا شاید ہے جوہری تو
مچھلی ہے کوئی میرے دریائے نور کی تو

اتوار، 29 جنوری، 2017

آسٹریلین اوپن کے فائنل کے بعد پاکستان کی صورتحال

۔ ساری قوم نے پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے سڑکوں پر خوشیاں منائیں اور فیڈرر کے حق میں نعرے لگائے۔ اسی دوران ٹریفک بلاک رہی اور رہ چلتی خواتین کو بھی تنگ کیا گیا۔ بعض منچلوں نے رافیل نڈال کے پتلے بھی جلائے۔

۔ وزیراعظم نے فیڈرر کو مبارک باد دیتے ہوئے جلد سوئٹزرلینڈ کے دورے پہ آنے کا اعلان کیا۔ دریں اثنا رافیل نڈال سے ہمدردی کرتے ہوئے وزیراعظم نے ان کو نیک خواہشات کا پیغام بھیجا اور بارسلونا سے میڈرڈ تک موٹروے بنانے کا بھی "سُکا" اعلان کیا۔

ہفتہ، 12 نومبر، 2016

اپنی ذات کا دائرہ

ایک بار میں کچھ دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے ایک بات کہی کہ مجھے پتنگ بازی، آتش بازی، کبوتر بازی وغیرہ سے سخت نفرت ہے اور میرے بس میں ہو تو اس پہ پابندی لگوا دوں۔ ایک دوست بولا کہ آتش بازی اور کبوتر بازی والی بات تو ٹھیک ہے لیکن پتنگ بازی میں تو کوئی حرج نہیں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا پتنگ بازی میں کوئی حرج اس لئے نہیں ہے کہ یہ تم خود بھی پسند کرتے ہو۔

اسی طرح کی مثال بانو قدسیہ نے بھی راجہ گدھ میں بیان کی ہے جو عورتوں کے بارے میں ہے کہ جو عورت پردہ کرتی ہے، وہ اس کو گناہگار سمجھتی ہے جو کہ نقاب نہیں اوڑھتی۔ جو دوپٹے سے سر ڈھانپتی ہے، وہ بال کھول کر رکھنے والی کو گناہگار کہتی ہے۔ اور بال کھول کر باہر نکلنے والی عورت ناچ گانے والی کو برا کہتی ہے۔ اور ناچ گانے والی جسم فروشی کرنے والی کو گنہگار قرار دیتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ

بدھ، 2 نومبر، 2016

اب روز گوشت پکے گا!

بحیثیتِ قوم ہمارے گوں ناگوں مسائل میں ایک مسئلہ ہمارے اس ذہنی رجحان کا بھی ہے کہ ہر چیز کو شارٹ کٹ میں تلاش کرتے ہیں۔ ہر مسئلے کا حل کسی معجزے میں دیکھتے ہیں۔ بس کچھ ایسا ہو جائے تو پھر تمام مسائل سے مکمل نجات۔

بہت پہلے پی ٹی وی پہ ایک ڈرامہ آیا کرتا تھا جس میں ایک کیریکٹر کا تکیہ کلام تھا کہ "اب روز گوشت پکے گا"۔ جس کا استعمال وہ ہر چھوٹی بڑی چیز کے ساتھ نتھی کر کے کرتا تھا۔ جیسے میری نوکری لگ جائے پھر روز گوشت پکے گا۔ ایک بار ہماری گلی پکی ہو جائے پھر روز گوشت پکے گا۔ بیٹا میٹرک پاس کر لے پھر روز گوشت پکے گا۔ پاکستان میچ جیت جائے پھر روز گوشت پکے گا۔ وغیرہ وغیرہ

مجھے لگتا ہے کہ من حیث القوم ہمارا حال بھی تقریباً اس کیریکٹر جیسا ہو چکا ہے۔ یار لوگوں کو تمام تر ملکی و قومی سطح کے مسائل کا حل کسی ایک وقوعے، کسی ایک معجزے، کسی ایک آرزو کی تکمیل میں دکھائی دیتا ہے۔

اتوار، 25 ستمبر، 2016

جنگ

جنگ کوئی شطرنج کی بازی نہیں ہوتی۔ کرکٹ نہیں جس میں فاتح کو ورلڈکپ مل جائے۔ ٹینس کا میچ نہیں جس میں ومبلڈن کا چیمپیئن وہ کہلائے جو اپنے حریف کو ہرا دے۔ جنگ صرف جنگ ہوتی ہے۔ جنگ صرف تباہی اور خرابی لاتی ہے۔ اس کے لئے بھی جو سمجھتا ہے کہ وہ جیت گیا اور ہارنے والے کے لئے بھی۔ جنگ نفرت سے پھوٹنے والا ببول ہے جس میں صرف کانٹے نکلتے ہیں۔ یا ایھاالابصار۔ اے آنکھیں رکھنے والو! اور عقل رکھنے والو۔ تمہارے لئے اس میں سیکھنے کو اور سمجھنے کو بہت کچھ ہے۔ پھر تم کیوں امن اور محبت کے بیج نہیں بوتے۔ کیوں دلوں کی زمین کو ہوس سے پاک کر کے قناعت سے آبیاری نہیں کرتے کہ جب پیار کے خوش رنگ پھول کھلیں تو تم کو یہ دنیا بھی جنت ہی محسوس ہو۔

(احمد اقبال کے ناول شکاری سے اقتباس)

ہفتہ، 14 مئی، 2016

دو اسلام از ڈاکٹر غلام جیلانی برق - 1

کچھ عرصہ قبل جارج آرویل جیسے نابغہ روزگار اور جینئس کی کتاب پڑھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ کیا اس طرح کا کوئی جینئس ہمارے ہاں بھی پیدا ہوا ہو گا۔ کافی غور کیا، لیکن کوئی خاص نام ذہن میں نہ آیا۔ پھر ایک دن ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی کتاب دو اسلام کے بارے میں پڑھنے کو ملا۔ ابھی صرف ابتدائیہ ہی پڑھا کہ فوراؐ دل سے آواز نکلی کہ ہاں ہمارے ہاں بھی جینئس لوگ ضرور پیدا ہوئے ہیں۔ یہ اور بات کہ ایک مخصوص ذہنی یا طبعی رجحان رکھنے کی بدولت ہم لوگوں نے ان کی قدر کرنے کی بجائے ان کو ملعون و مطعون ٹھہرایا یا وہ لوگ گمنامی وغیرہ میں ہی مر گئے۔
چند روز قبل میں نے پوری کتاب (یعنی دو اسلام) بھی پڑھ لی۔ اس پہ تفصیل میں لکھا جا سکتا ہے۔ تاہم اس بلاگ میں صرف اس کتاب کے ابتدائیے کو ہو بہو شامل کر رہا ہوں۔ بعد میں انشاءاللہ دوسرے حصے میں کتاب کی بابت کچھ تبصرہ بھی شامل کروں گا۔

سوموار، 25 اپریل، 2016

فورٹی رولز آف لو از ایلف شفق

ترک نژاد مصنفہ ایلف شفق کا ناول فورٹی رولز آف لو پہلی دفعہ 2009 یا 2010 میں شائع ہوا تھا۔ لیکن نجانے کیوں اس ناول نے گزشتہ دو تین سالوں میں زیادہ شہرت پائی ہے۔ کچھ احباب سے اس ناول کی شہرت سن کر میں نے بھی آخرکار اس کو پڑھ ہی ڈالا۔ اگر پہلے سے کچھ علم یا ریویو نہ ہو تو اس ناول کا نام کافی مس لیڈنگ ہو سکتا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ یہ رومانوی یا ازدواجی زندگی میں کامیابی کا نسخہ لئے ہوئے کوئی کتاب ہو گی۔ تاہم اس کتاب کا موضوع کافی مختلف اور چونکا دینے والا ہے۔ فورٹی رولز آف لو کی کہانی دراصل دو مختلف ادوار یا دو مختلف دنیاؤں میں چلنے والی دو کہانیوں کو ساتھ لے کے چلتی ہے۔

منگل، 19 اپریل، 2016

مزید حماقتیں از شفیق الرحمٰن سے اقتباس

ذیلی اقتباس اس کتاب کے پہلے باب یعنی "تزکِ نادری" سے لیا گیا ہے۔

حملہ آوری اور برادر محمد شاہ کی ہماری ذات سے عقیدت
صبح سے محمد شاہ اپنا لشکر لے کر سامنے آیا ہوا تھا، مگر ابھی تک سعادتِ زیارت سے مشرف نہ ہوا تھا۔ دوپہر کو ایک ایلچی رنگین جھنڈا لہراتے ہوئے آیا اور معروض ہوا کہ "محمد شاہ صاحب نے دریافت کیا ہے کہ حملہ کرنے کا کس وقت ارادہ ہے؟" ہم نے پوچھا "ابے حملہ کیسا؟" ایلچی نے عرض کیا "خداوندِ نعمت وہ تو عرصے سے آپ کے حملے کے منتظر ہیں۔ اتنے دنوں سے تیاریاں ہوتی رہی ہیں۔ اگر حملہ نہ ہوا تو سب کو سخت مایوسی ہو گی۔ کل بارش کی وجہ سے لشکر اکٹھا نہ ہو سکا۔ اور پھر یہ رسم چلی آتی ہے کہ درہ خیبر سے آنے والے۔۔۔"
"بس بس! آگے ہمیں پتا ہے۔" ہم نے اسے ڈانٹا۔

منگل، 5 اپریل، 2016

پاکستان کرکٹ کا مسئلہ کیا ہے؟

حالیہ ٹی20 ورلڈکپ میں شرمناک شکست کے بعد یار لوگ مختلف قسم کے حل پیش کر رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ویوین رچرڈز کو کوچ لگوا دو، کوئی ڈین جونز اور کوئی وسیم اکرم کو کوچ بنانے میں کرکٹ کی بہتری دیکھ رہا ہے۔

اس ضمن میں میری رائے ان سے کچھ مختلف ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کرکٹ کے مسائل ان تکنیکی باریکیوں سے کہیں بڑے اور گھمبیر ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ احتساب کا ہے کہ یہاں کسی کو ڈر نہیں کہ کوئی پوچھے گا۔ کھلاڑی اپنی من مانی کرتے ہیں اور بورڈ انتظامیہ بشمول سلیکشن کمیٹی ایسے فیصلے کرتے ہیں کہ چارلی چپلن یا امان اللہ جیسے کامیڈین کو بھی مات کرتے ہیں۔ ماضی قریب کی مثال ہی دیکھ لیں کہ کیسے انہوں نے رفعت اللہ مہمند کا مردہ قبر سے نکال کے اس کو ٹی20 کھلا لیا۔یا خرم منظور کو ٹی20 میں اور یونس خان کو ون ڈے ٹیم میں ڈال دیا۔

بدھ، 30 مارچ، 2016

داعش کی پسپائی کا آغاز؟

صرف چند ماہ پہلے کی بات ہے کہ داعش یا اسلامی سٹیٹ کے نام سے مشہور شدت پسند تنظیم نے عراق اور شام کے وسیع علاقے پر قبضہ کر کے اس پہ اپنی حکومت قائم کی ہوئی تھی۔ ان علاقوں پہ داعش کا نفوذ یا ہولڈ اس قدرتھا کہ اس علاقے کو ایک طرح سے ڈی فیکٹو سٹیٹ قرار دیا جا رہا تھا، جس کی اپنی معیشت، پولیس اور سرحدی چوکیاں وغیرہ تھیں۔ داعش کی جنگی یا جغرافیائی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ بیس لاکھ سے زیادہ آبادی والا شہر موصل بھی ان کے قبضے میں تھا۔

ہفتہ، 26 مارچ، 2016

آبِ گم از مشتاق احمد یوسفی سے اقتباس

سب سے زیادہ تعجب انہیں اس زبان پر ہوا جو تھانوں میں لکھی اور بولی جاتی ہے۔ رپٹ کنندگان کی حد تک تو بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن منشی جی ایک شخص کو (جس پر ایک لڑکی سے زبردستی نکاح پڑھوانے کا الزام تھا) کو عقدبالجبرکنندہ کہہ رہے تھے۔ عملے کی آپس کی گفتگو سے انہیں اندازہ ہوا کہ تھانہ ہٰذا نے بنی نوع انسان کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ایک وہ جو سزایافتہ ہیں۔ اور دوسرے وہ جو نہیں ہیں، لیکن ہونے چاہییں۔ ملک میں اکثریت غیرسزایافتہ لوگوں کی ہے اور یہی بنائے فتور و فساد ہے۔
گفتگو میں جس کسی کا بھی ذکر آیا، وہ کچھ نہ کچھ "یافتہ" یا "شدہ" ضرور تھا۔ شارع عام پر مشکوک حرکات پر جن دو عورتوں کو گرفتار کیا گیا تھا، ان میں سے ایک کو اے ایس آئی شادی شدہ

اتوار، 21 فروری، 2016

تاریخ اور مبالغہ ۔ ابنِ خلدون کی نظر سے

تاریخ کا فقط ایک مصرف ہے اور وہ یہ کہ اس سے سبق حاصل کیا جائے، عبرت پکڑی جائے، اور اس کی روشنی میں اپنے مستقبل کی راہوں کا تعین کیا جائے۔ بدقسمتی سے من حیث القوم ہم نے تاریخ کا مصرف یہ نکالا ہے کہ اس کے خوشگوار حصوں کا بھجن گایا جائے اور اس کے ناخوشگوار حصوں کا انکار کیا جائے، اور اگر خوشگوار حصوں کی کمی محسوس کریں تو حسبِ توفیق اس میں مبالغہ آرائی کا تڑکا لگانے سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ لیکن تاریخ اور تواریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ چلن صرف ہمارا یا عہدِ حاضر کا ہی نہیں ہے، بلکہ ہمیشہ سے تاریخ میں من پسند و من گھڑت فسانہ نویسی شامل کی جاتی رہی ہے۔

بدھ، 22 اکتوبر، 2014

تمام ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کے خلاف سنچری بنانے والے بلے باز

آج آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن پاکستان کو مشکل حالات سے نکالنے میں سب سے اہم کردار ادا کرنے والے مایہ ناز بلے باز یونس خان پہلے پاکستانی اور مجموعی طور پہ بارہویں بلے باز بن گئے ہیں، جنہوں نے نو ٹیمز (یعنی تمام مخالف ٹیمز) کے خلاف سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔
یہ بات ملحوظ رہے کہ زیادہ پرانے کھلاڑی اس فہرست میں شامل ہی نہیں ہو سکتے، کیونکہ اس وقت ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کی تعداد ہی کم تھی۔

گیری کرسٹن یہ اعزاز حاصل کرنے والا پہلا بلے باز تھا۔ تمام بارہ بلے بازوں کے نام یہ رہے۔

منگل، 21 اکتوبر، 2014

تحریکِ انصاف کی نئی اور بہتر احتجاجی حکمت عملی

چند ماہ قبل سے پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے موجودہ حکومت (یا موجودہ نظام کہہ لیں) کے خلاف تحریک کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ میرے لئے ابتدا میں سب سے حیرت انگیز عنصر ان دونوں مختلف الخیال جماعتوں کی پلاننگ اور ٹائمنگ میں اتفاقیہ طور پہ ہم آہنگی تھی۔ ہر ذی شعور یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ حیران کن مطابقت کیسے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ خیر دو ماہ گزرنے کے بعد اس بابت کافی کچھ سامنے آ چکا ہے، جس میں باغی صاحب کی معروضات بھی شامل ہیں۔ اس لئے اس بابت مزید بات کی ضرورت نہیں ہے۔

سوموار، 20 اکتوبر، 2014

ایم کیو ایم ۔ ایک بار پھر طلاقِ رجعی؟؟

ایم کیو ایم اور ان کی طلاقِ رجعی پر مبنی سیاست کے بارے میں کافی پہلے بھی کچھ لکھا تھا۔ تازہ ترین پیش رفت کے طور پہ ایم کیو ایم نے ایک بار پھر پی پی پی کی سندھ حکومت سے سیاسی طلاق کا اعلان کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اب کے یہ حتمی طلاق ہے یا ایک بار پھر طلاقِ رجعی ہی وقوع پذیر ہونے جا رہی ہے۔

بظاہر تو لگتا ہے کہ اب کے حالات اور سابقہ چار پانچ طلاقِ رجعی والے حالات میں کافی فرق ہے۔ اب ملک کے مجموعی سیاسی حالات بھی کافی مختلف منظر پیش کر رہے ہیں اور انقلابوں اور تبدیلیوں کا دور دورہ ہے۔ اس لئے اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس دفعہ ایم کیو ایم مستقل بنیادوں پہ پی پی پی سے الگ ہو جائے۔ اس بابت بعض تجزیہ نگاروں کی یہ پیشنگوئی بھی قرین قیاس ہو سکتی ہے کہ دھرنا والی جماعتوں یعنی پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کو ایم کیو ایم کی شکل میں ایک اور حلیف ملنے والا ہے۔

بدھ، 2 جولائی، 2014

فال آف جائنٹس از کین فولیٹ

انگلش مصنف کین فولیٹ کا لکھا ناول فال آف جائنٹس دراصل تین ناولز پر مبنی سلسلے کا پہلا ناول ہے۔ اس سلسلے کو سنچری ٹرائیلوجی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ 
پہلے آئی آف دی نیڈل اور اب فال آف جائنٹس پڑھنے کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ جب تاریخی فکشن اور خصوصا" یورپی تاریخ سے متعلق فکشن کی بات ہو تو کین فولیٹ کا کوئی مقابل نہیں۔

آئی آف دی نیڈل کے بعد میں نے کین فولیٹ کے دو مزید ناولز بھی پڑھے تھے۔ وائٹ آؤٹ اور دی تھرڈ ٹوئن۔ دونوں ہی تھرل جینرے کے تھے اور کافی اچھی رینٹنگ وغیرہ کے حامل تھے، لیکن مجھے کافی ایوریج سے لگے۔ خصوصا" جب ان کا مقابلہ یا موازنہ آئی آف دی نیڈل اور فال آف جائنٹس جیسے معرکۃ الآرا ناولز سے کیا جائے۔

سوموار، 23 جون، 2014

مبارک ہو!!! انقلاب جہاز سے نکل آیا بالآخر

جیسا کہ سب جانتے ہی ہیں کہ جنابِ کینڈین انقلاب صاحب کو ایک ڈیڑھ سال سے اچانک پاکستان سے محبت ہو گئی ہے اور ان کی روح تک پاکستان میں انقلاب لانے اور ریاست بچانے کے لئے تڑپ تڑپ کے بے چین ہو رہی ہے۔ اس ضمن میں ان پہ کافی کالمز لکھ چکا ہوں اور ہر بار ارادہ کرتا ہوں کہ اب مزید ان پہ نہیں لکھنا، لیکن جنابِ انقلاب صاحب ہر بار کچھ ایسا کر جاتے ہیں کہ ان پہ مزید نہ لکھنے سے تشنگی سی محسوس ہوتی ہے۔

کنٹینر والے انقلاب اور اس کے بعد چند ایک ویڈیو لنک انقلابات بپا کرنے کے بعد اس بار جنابِ انقلاب صاحب نے ایک بار پھر سرزمینِ انقلاب کو اپنی زیارت سے فیض یاب کرنے کا قصد کیا، جس کے لئے غیب سے آئے پیسے، فرشتوں کی اخلاقی امداد اور منہاج القرآن کے تعلیمی اداروں کی استانیوں اور طلبا و طالبات کی انقلاب میں شرکت سے ماحول بنانے کا انتظام و انصرام کیا گیا۔

جمعہ، 13 جون، 2014

شیخ الاسلام صاحب کے لئے تقریر کا مسودہ

جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ قائدِ انقلاب، شیخ الاسلام جناب طاہرالقادری صاحب نے اس بار سردیوں کی بجائے گرمیوں کی کچھ چھٹیاں پاکستان میں گزارنے کا اعلان فرما دیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ اس بار میں ملک میں انقلاب بھی لاؤں گا۔ یہ تقریبا" ایسا ہی ہے جیسے بندہ ٹماٹر لینے دکان پہ جا رہا ہو اور گھر سے کوئی آواز دے کہ ٹماٹر کے ساتھ دھنیا بھی لے کے آنا، سو اسی طرز پہ جناب قادری صاحب اپنی چھٹیوں کو دلچسپ بنانے کے لئے انقلاب کا ڈرامہ بھی رچائیں گے۔
ایسے موقعے پہ ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ان کی کچھ مدد کی جائے۔ اپنے تئیں لکھاری کے دعویدار ہونے کی وجہ سے سب سے بہتر مدد یہی کر سکتے ہیں کہ ان کے لئے ایک عدد تقریر لکھ کے دی جائے۔ سو پیشِ خدمت ہے تقریر کا مسودہ جو کہ ان کی پاکستان آمد سے پہلے کی تقریر کے لئے ہے۔

سوموار، 9 جون، 2014

کراچی ایئرپورٹ پہ دہشت گردی اور ماضی کے واقعات

ویسے تو پاکستان میں مکمل امن شاید ہی کبھی موجود رہا ہو، لیکن ماضی قریب میں فاٹا آپریشن شروع کئے جانے کے بعد سے اس ملک نے دہشت گردی کے ایسے ایسے واقعات دیکھے ہیں کہ اب محسوس ہوتا ہے کہ اس سے پہلے تو پاکستان بہت ہی پرسکون اور امن کا گہوارا ہوا کرتا تھا۔

لیکن فاٹا آپریشن کے بعد بہادر کمانڈو المعروف مشرف صاحب نے جب لال مسجد کر دیا تو اس کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کے ایسے ایسے واقعات ہوئے کہ ہالی ووڈ کی ڈائی ہارڈ سیریز جیسی فلموں کو بھی مات کر دیا۔

جمعہ، 6 جون، 2014

ہاؤ ٹو گیٹ فلدی رچ ان رائزنگ ایشیا از محسن حامد

پاکستان سے تعلق رکھنے والے اور انگلش زبان میں ناول یا کتب لکھنے والوں میں عہدِ حاضر کا روشن ترین نام محسن حامد کا ہے۔ جنہوں نے اپنے گزشتہ دو ناولز یعنی دی موتھ سموک اور دی ریلکٹنٹ فنڈامنٹلسٹ سے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ ان کا تیسرا ناول گزشتہ سال شائع ہوا تھا۔ ناول کے نام کا اردو ترجمہ کچھ یوں بنے گا "ترقی پذیر ایشیا میں دھن بنانے کے طریقے"۔ تاہم اصل نام کچھ یوں ہے۔ ہاؤ ٹو گیٹ فلدی رچ ان رائزنگ ایشیا ،،، یعنی
How to Get Filthy Rich in Rising Asia

میں نے یہ ناول کچھ ہی دن قبل ای فارمیٹ میں پڑھا ہے۔ کافی عرصے بعد ایسی فراغت میسر ہوئی تھی کہ ایک ہی دن میں دو نشستوں میں ناول ختم کر کے ہی دم لیا۔ اس ناول کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ محسن حامد نے ایک بار پھر زبردست چیز پیش کی ہے اور اپنے سٹینڈرڈ کو نیچے نہیں آنے دیا۔

بدھ، 4 جون، 2014

الطاف بھائی اور رابطہ کمیٹی کے لئے بیان کا مسودہ

آج کی تازہ ترین پیش رفت (یعنی الطاف حسین صاحب کی حراست) کے سلسلے میں جس طرح سے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے "سچے" بیانات جاری کر کے قوم کو حقائق سے روشناس کرانے کی کوششِ عظیم کی ہے، تو اسی ضمن میں ہم بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ اس رابطہ کمیٹی کی مدد کی جائے اور ان کے لئے ایک ایسے بیان کا مسودہ مہیا کیا جائے جو جامع بھی ہو، "حقیقت" پر بھی مبنی ہو اور ہم سب امید سے ہیں اور مذاق رات وغیرہ کی کمی کا احساس بھی نہ ہونے دے۔
تو پیشِ خدمت ہے جی مجوزہ بیان کا مسودہ

جمعہ، 30 مئی، 2014

ایک "کُوگی" کی داستان

چند ماہ قبل کراچی میں میری ملاقات جرمنی کے دو افراد سے ہوئی جو کہ اپنی کمپنی کے کاروبار کے سلسلے میں یہاں میٹنگ کے لئے آئے تھے۔ ایئرپورٹ کے قریب ایک ہوٹل میں میٹنگ کی گئی۔ اسی دوران کھانے کا وقت ہو گیا تو ہم سب لوگ لنچ والے ہال میں چلے گئے۔ اب بیٹھے کھانا کھا رہے تھے تو گوروں کی عادت کے مطابق یعنی کھانے کے دوران بزنس کی بات نہیں کرتے، بلکہ جنرل گپ شپ کی جاتی ہے، ہم نے بھی ان سے ہلکی پھلکی بات چیت شروع کی۔
میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگ تو یہاں بور ہو رہے ہو گے۔ یہاں نہ تم لوگوں کی گرل فرینڈز ہیں، نہ ہی باہر گھومنے پھرنے کے حالات ہیں اور نہ ہی پینے پلانے کو بارز موجود ہیں۔ گورا صاحب نے کہا کہ باقی سب تو میسر نہیں ہے، لیکن پینے پلانے کو یہاں ہوٹل میں ہی مل جاتا ہے۔ بس اس کے لئے کچھ قواعد و ضوابط کی پابندی کرنی پڑتی ہے جیسے

سوموار، 26 مئی، 2014

میلینئم سیریز از سٹیگ لارسن

سویڈن سے تعلق رکھنے والے ناول نگار سٹیگ لارسن پچاس برس کی عمر میں سن دو ہزار چار میں وفات پائی۔ سٹیگ لارسن نے اپنی زندگی میں ایک ناول سیریز لکھنی شروع کی تھی جو کہ اب میلنئم سیریز کے نام سے مشہور ہے۔ سٹیگ لارسن کا ارادہ تو دس ناولز کی سیریز لکھنے کا تھا، تاہم ان کی وفات کی وجہ سے یہ کام ادھورا رہ گیا اور صرف تین ہی حصے شائع ہو سکے اور وہ سب بھی ان کی وفات کے بعد ہی شائع ہوئے۔ یعنی سن دو ہزار پانچ، چھ اور سات میں۔ ان تین حصوں کے نام یہ ہیں۔

The Girl with the Dragon Tattoo (2005)
The Girl Who Played with Fire (2006)
The Girl Who Kicked the Hornets' Nest (2007)

جمعہ، 23 مئی، 2014

زندہ ہیروز کی تلاش

چند ماہ قبل کی بات ہے۔ کسی ٹی وی چینل پہ کسی شاعر یا ادیب کو ایوارڈ دینے کی خبر چلی تو میرے ایک کزن کا پہلا سوال یہ تھا کہ ہائیں!!! کیا یہ بھی فوت ہو گیا ہے؟
اس ایک فقرے میں گویا ہمارے من حیث القوم مزاج اور رویوں کی داستان بیان کر دی گئی۔ میں بہت عرصے سے اس چیز کو دیکھ رہا ہوں کہ کسی بھی شاعر ادیب، فنکار یا ماہرِ فنونِ لطیفہ کے لئے ہیرو بننے (یا ایوارڈ پانے) کی سب سے بڑی کوالیفیکیشن

اتوار، 18 مئی، 2014

آئی آف دی نیڈل از کین فولیٹ

برطانوی ناول نگار کین فولیٹ کا لکھا یہ ناول ابتدا میں "سٹارم آئے لینڈ" کے نام سے بھی چھپا تھا۔ تھرلر ناولز پڑھنے کے شوقین لوگوں کے لئے یہ ایک توشۂ خاص ہے۔ میں اگر اپنی بات کروں تو جتنا لطف اس ناول کو پڑھنے میں آیا، اتنا کم کم ہی کسی ناول میں آیا ہو گا۔ 
یہ ناول دوسری جنگِ عظیم کے دوران انگلینڈ میں موجود ایک جرمن جاسوس کی کہانی کا بیان ہے۔

اتوار، 11 مئی، 2014

نئی سیاسی صف بندی کا آغاز؟

ویسے تو سیاسی صف بندی دائیں اور بائیں بازو کے درمیان ہوا کرتی ہے، یا انتہاپسند اور اعتدال پسند نظریات کے حامل دھڑوں کے مابین۔ لیکن پاکستان میں کچھ مختلف قسم کی سیاسی صف بندی کا بھی رواج چلتا رہا ہے، جو کئی عشروں سے مختلف ناموں اور مختلف شکلوں سے سامنے آتا رہا ہے۔ یہ ہے جمہوری اور غیرجمہوری قوتوں کی صف بندی۔

ہفتہ، 3 مئی، 2014

سونامی صاحب کا ذہنی دیوالیہ پن

ویسے تو جنابِ عمران خان صاحب گزشتہ کچھ ماہ سے کافی ٹھیک جا رہے تھے۔ خصوصا" ان کی فاٹا آپریشن کی بجائے مذاکرات سے مسئلہ حل کرنے کے موقف پہ سختی سے قائم رہنے اور نتیجتا" ملک میں گزشتہ چند ماہ میں نسبتا" پرامن حالات ہونا کافی بہتر اپروچ لگ رہا تھا۔ ان کے لئے میرے پسندیدگی کے گراف میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔
لیکن گزرے چند دن میں جناب قائدِ انقلاب نے کچھ ایسے کارنامے کر ڈالے ہیں کہ مجھے تو خطرہ محسوس ہونے لگا ہے کہ شاید جناب کے سر پہ چوٹ لگی ہے

اتوار، 13 اپریل، 2014

خوش قسمت کون؟

کوئی سال دو پہلے کی بات ہے۔ ایپل کمپنی کے مشہورِ زمانہ بانی سٹیو جابز کی وفات کی خبر سنی تو بہت سے لوگوں کا یہ کمنٹ سننے یا پڑھنے کا موقع ملا کہ امریکہ خوش قسمت ہے کہ اس میں سٹیو جابز جیسے لوگ پیدا ہوئے۔ ایسے کمنٹس کو سن کے یا پڑھ کے جو پہلا خیال میرے ذہن میں آیا، وہ یہ تھا کہ خوش قسمت امریکہ نہیں کہ اس میں سٹیو جابز پیدا ہوا۔ بلکہ خوش قسمت سٹیو جابز تھا کہ وہ امریکہ میں پیدا ہو گیا۔
ذرا سوچیئے کہ اگر سٹیو جابز صاحب شومئیِ قسمت سے ہمارے یہاں پیدا ہو جاتے۔ اول تو سکول کالج کے لیول پہ ہی جناب کا سارا ذوق و شوق و جستجو مر کھپ چکے ہوتے۔ محترم کوئی چھوٹی موٹی اور سچی یا جھوٹی ڈگری کما کے ریلوے یا واپڈا میں اچھی سی نوکری لگنے کے اور پھر چاند سی بہو لانے کے سپنوں سے ہی باہر نہ آ پاتے۔

سوموار، 7 اپریل، 2014

میرے عزیز ہم وطنو

پاکستان جب سے بنا ہے، ایک چیز تواتر سے ہر کچھ عرصے بعد ہمارے سامنے آن کھڑی ہوتی ہے، اور وہ ہے میرے عزیز ہم وطنو۔ اس شروعات کے بعد کا جو متن ہے، وہ کم وبیش ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ یعنی کہ ملک و ملت کو عظیم الشان خطرات لاحق ہو چکے تھے، نظریہ پاکستان کو گروی رکھ دیا گیا تھا، کرپشن کا دور دورہ ہو چکا تھا۔ مختصر یہ کہ حالات اس نہج پہ پہنچا دیئے گئے تھے کہ اسلام کے اس قلعے کی حفاطت کے لئے مجھے مجبورا" میرے عزیز ہم وطنو
کرنا پڑ گیا ہے۔ لہٰذا میرے عزیز وطنو! اب تم سب سے التماس ہے کہ مجھے دس بارہ سال کم از کم برداشت کرو اور اس سے اگلے دس بیس سال میرے اثرات و باقیات کو بھی برداشت کر لینا۔