سوموار، 27 جون، 2011

عالمگیریت پہ کچھ بات چیت

عالمگیریت یعنی گلوبلائزیشن عہدِ حاضر کا ایک اہم موضوع ہے جس پہ اکثر بات چیت سننے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ گلوبلائزیشن کی ٹرمنالوجی کے کچھ پہلو کافی کنفیوزنگ ہیں، اس مضمون میں اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ اس کنفیوژن کو دور کیا جا سکے۔

عالمگیریت یعنی گلوبلائزیشن کیا ہے؟
سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ عالمگیریت سے کیا مراد لی جاتی ہے۔
وکی پیڈیا عالمگیریت کی تعریف یوں بیان کرتا ہے "ایک ایسی عملیت جس سے ساری دُنیا کے لوگ ایک معاشرے میں متحد ہوجائیں اور تمام افعال اکٹھے سرانجام دیں"۔
عالمگیریت دراصل ایک مسلسل جاری عمل ہے جو شاید ازل سے جاری ہے اور اس کا سب سے اہم مقصد ساری دنیا کو یکجا یا ہر ممکن حد تک مشترک کرنا ہے۔ یکجا کرنے سے ہرگز مراد ملکوں کا انضمام یا ادغام نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ دنیا کے تمام خطوں، ملکوں اور علاقوں کے درمیان سرحدی اور معاشی بیریئر ختم یا کم کئے جائیں۔ زبان، ثقافت، فنونِ لطیفہ وغیرہ میں سے علاقائیت کا پہلو ختم کر کے اس کو مشترکہ طور سے عالمگیر سطح پہ متعارف کرایا جائے۔

گلوبل ولیج

گلوبل ولیج والی بات کچھ سادہ سی ہے، جس میں سب سے اہم نکتہ کمیونیکیشن اور انفارمیشن وغیرہ کا ہے یعنی کہ ایک جگہ بیٹھے ہی آپ کو پوری دنیا کی خبریں، اپ ڈیٹس وغیرہ مل جاتی ہے۔ جیسے میں چاہوں تو پاکستان میں بیٹھے اس وقت ہی دیکھ لوں کہ نیویارک کا موسم کیسا ہے یا سڈنی سٹاک ایکسچینج میں کیا اتار چڑھاؤ ہے۔ وغیرہ وغیرہ


گلوبلائزیشن اور گلوبل ولیج کو آپس میں کنفیوز نہ کریں

 گلوبلائزیشن اور گلوبل ولیج دو مختلف ٹرمنالوجیز ہیں۔ ان کو آپس میں مکس اپ نہیں کیا جا سکتا اگرچہ کہ دونوں میں کچھ مشترکات بھی ہیں۔

گلوبل ولیج گلوبلائزیشن کا رزلٹ نہیں ہے۔ دراصل گلوبل ولیج صرف ایک چیز کا رزلٹ ہے اور وہ چیز ہے سائنس اور ٹیکنالوجی۔
اس کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ گلوبل ولیج کا پھیلاؤ ٹیکنالوجی کا انڈکس ہے۔
مذکورہ ٹیکنالوجی میں زیادہ حصہ تو آئی ٹی اور کمیونیکیشن کا ہے جبکہ اس کے علاوہ ذرائع آمدورفت کی ترقی کا بھی ایک اہم رول ہے۔

اس چیز کا اندازہ لگانے کے لئے کہ کیا واقعی گلوبل ولیج ٹیکنالوجی کا ہی آؤٹ کم ہے، آپ کچھ دہائیاں یا صدیاں قبل کے دور کا اندازہ کیجئے جب کہ گلوبل ولیج کا تصور ہی نہیں تھا۔

جبکہ گلوبلائزیشن یا کم از کم ریجنلائزیشن کا تصور کافی پرانا ہے۔ ہر دور میں جس حد تک ممکن ہوتا رہا ہے، گلوبلائزیشن کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ یہ سکندرِ اعظم کے دور میں بھی تھا اور مسلم خلافت کے دور میں بھی۔

عالمگیریت کی موجودہ شکل اور اس کے اجزاء

اب پھر سے آتے ہیں گلوبلائزیشن یا عالمگیریت کی جانب۔ اس کے کچھ اجزاء یا پہلو ایسے ہیں جو گلوبل ولیج سے الگ ہیں۔ ضروری نہیں کہ ان میں سب پہ عمل بھی ہو رہا ہو، لیکن بہرحال ان سب کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہے عالمگیریت میں۔ جیسے

مشترکہ منڈی
مشترکہ کرنسی
مشترکہ سرحدیں
مشترکہ شناختی کاغذات یعنی پاسپورٹ وغیرہ۔
مشترکہ کلچر
مشترکہ بینکنگ
مشترکہ زبان
مشترکہ شاہراہوں، ریلوے کا نیٹ ورک۔

عالمگیریت ابھی تک پوری طرح سے نافذ العمل نہیں ہے اور شاید مکمل طور پہ کبھی ہو بھی نہ سکے۔

ریجنلائزیشن

عالمگیریت یا گلوبلائزیشن سے زیادہ ایک اور چیز کے کئی ماڈل سامنے آ چکے ہیں اور وہ چیز ہے ریجنلائزیشن۔ اس کو سمال سکیل گلوبلائزیشن کہا جا سکتا ہے۔ اس کی سب سے بہترین مثال ملتی ہے یورپین یونین۔ اس کے علاوہ یا اس سے پہلے بھی کئی کوششیں ہو چکی ہیں جن میں سے زیادہ تر نام کی حد تک ہیں جیسے سارک، افریقن یونین، سی آئی ایس، آسیان، جی سی سی وغیرہ۔ مصر کے صدر جمال عبد الناصر کے دور میں مصر، شام اور یمن کی کنفیڈریشن بنا کے ایک منی ریجنلائزیشن کی کوشش کی گئی تھی۔


عالمگیریت کے خلاف احتجاج کیوں؟

گلوبلائزیشن کے کیا نقصانات ہیں کہ جہاں بھی اس سے متعلق کوئی اجلاس ہوتا ہے تو عموما" مزدور تنظیمیں وغیرہ اس پہ بھرپور احتجاج کرتی ہیں اور دھرنے، لاٹھی چارج جیسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
یہ ایک اہم سوال ہے۔ اگرچہ کہ مکمل جواب میرے پاس بھی نہیں ہے لیکن میرے خیال سے اس کی بڑی وجہ مشترکہ منڈی والی ہے۔ کیونکہ جہاں بھی مشترکہ منڈی ہو گی تو اس بات کے امکانات بڑھ جائیں گے کہ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جائے۔
مثال یوں سمجھئے کہ پاکستان میں ایک فیکٹری ہے جو کہ جوتے تیار کرتی ہے اور جیسا تیسا کام چلا کے کچھ منافع کما رہی ہے اور بہت سے لوگوں کے روزگار کا سبب بن رہی ہے۔ لیکن اگر پاکستان کی مارکیٹ دوسرے ممالک کے بنے ہوئے جوتوں کے لئے بھی اوپن ہو جائے (اوپن سے مراد ٹیکس ری بیٹ یا اضافی ٹیکسوں سے چھوٹ وغیرہ ہے) تواس بات کے چانسز ہیں کہ جوتے بنانے والی بڑی کمپنیز کے جوتے مارکیٹ میں چھا جائیں گے جس سے کچھ ہی عرصہ تک اپنی انڈسٹری دیوالیہ ہو کے ختم ہو سکتی ہے جس سے مزدوروں کو بے روزگار ہونا پڑے گا۔ اس سلسلے میں بڑی کمپنیز ڈرٹی پلے اس طرح سے کرتی ہیں کہ جب کسی ملک میں ان کو اوپن ایکسس ملے تو سب سے پہلے اپنی پراڈکٹ انتہائی سستے داموں مارکیٹ میں لائیں گے۔ بعض اوقات یہ قیمت اصل پیداواری لاگت سے بھی نیچے لے جاتے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ بڑی کمپنیز ہوتی ہیں جن کے بے شمار بزنس ہوتے ہیں تو ان کو زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ لیکن چھوٹی مقامی کمپنیز اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ جس کے نتیجے میں سارا بزنس بڑی مچھلی کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ جس کے بعد چھوٹی انڈسٹری کے لئے دو ہی صورتیں بچتی ہیں۔ ایک یہ کہ انڈسٹری بند ہو جائے، دوسری یہ کہ بڑی کمپنی سے مرجر کر لے۔

موجودہ دور میں عالمگیریت کے یہ اثرات تیزی سے پھیل رہے ہیں جس کی وجہ سے ہر کچھ دن بعد آپ کو بڑی بڑی کمپنیز کا مرجر ہونے کی خبریں ملتی ہیں۔

عالمگیریت کے نقصانات کو سنگتروں کی مثال سے سمجھئے

عالمگیریت کا ایک نقصان تو اوپر بیان کیا جا چکا ہے یعنی چھوٹی مچھلیوں کے معدوم ہو جانے کا۔ لیکن عالمگیریت کا ایک اور نقصان اس سے بھی بڑا ہے اور اگر غور کریں تو یہ خالصتا" انسانی مسئلہ ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستان میں سنگترے یعنی کینو اور مالٹے کی پیداوار کے لئے سب سے مشہور علاقہ سرگودھا کا ہے۔ یہاں بے تحاشا کینو پیدا ہوتا ہے اور ٹرک بھر بھر کے منڈیوں میں پہنچایا جاتا ہے، لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ سرگودھا کا عام بندہ سرگودھا کا اچھا کینو کھانے سے محروم ہے۔ اس کی وجہ کچھ یوں ہے کہ چونکہ اب سڑکوں کا نظام بہتر ہو چکا ہے، سرگودھا کا رابطہ موٹروے کے ذریعے بھی لاہور اور اسلام آباد وغیرہ سے جڑ چکا ہے۔ اس کے علاوہ اب کولڈ سٹوریج کی سہولت بھی کافی عام ہو چکی ہے اور کینو کو زیادہ عرصہ محفوظ رکھنے کے لئے سپرے اور ویکسنگ وغیرہ کی ٹیکنالوجی بھی عام ہو چکی ہے۔ تو ان سب کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب کینو کو ایکسپورٹ کرنا اور بڑے شہروں میں بھیجنا پہلے کی نسبت بہت آسان ہو چکا ہے۔

اب چونکہ بڑے شہروں یعنی کراچی، اسلام آباد اور لاہور وغیرہ میں کاروبار اور صنعت و حرفت زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی قوتِ خرید سرگودھا کے مقامی لوگوں کی نسبت کافی زیادہ ہے تو وہ مہنگے داموں بھی کینو خرید کے کھا سکتے ہیں۔ اسی طرح ایکسپورٹ کرنے سے بھی اچھے دام مل جاتے ہیں۔ فرض کریں کہ اسلام آباد میں کینو اگر ایک سو روپے درجن بھی بک رہا ہو تو کافی لوگ خرید لیں گے، جبکہ سرگودھا کا غریب یا متوسط آدمی پچاس روپے درجن بھی مشکل سے افورڈ کر سکے گا۔

جبکہ آج سے تیس چالیس پہلے وہی کینو جو کہ سرگودھا میں دس روپے درجن مل جاتا تھا، اس کو دوسرے شہروں میں بھیجنا ہی اتنا مشکل تھا کہ بہت کم کینو سرگودھا سے دوسرے شہروں کو بھیجا جاتا تھا، یوں مقامی لوگوں کو اپنے علاقے کا پھل زیادہ سے زیادہ مقدار اور کم سے کم نرخ میں دستیاب ہوتا تھا۔

یہی صورتحال ملتان اور مظفرگڑھ کے آم کی اور دوسرے بہت سے علاقوں میں مقامی پھلوں کی بھی ہے۔

شاید کچھ لوگوں نے مشاہدہ کیا ہو کہ اب عام مارکیٹ میں یا ریڑھیوں پہ اچھا آم یا اچھا کینو یا کوئی بھی اچھا مقامی پھل نہیں ملتا، بلکہ وہی چیز مہنگے داموں کسی بڑے سٹور میں رکھی ضرور نظر آئے گی۔

کیا گلوبلائزیشن اور سرمایہ دارانہ نظام ایک ہی چیز ہے؟

بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے، لیکن اصل میں ایسا نہیں ہے۔ گلوبلائزیشن کے ایک خاص فیز کے وقت جو تہذیب، کلچر یا معاشی نظام طاقت میں ہو گا تو اسی کو فائدہ ہو گا۔ ہم نے چونکہ دیکھا ہی سرمایہ دارانہ نظام کا عروج ہے تو ہمارے پاس دوسری مثالیں یا ڈیٹا موجود ہی نہیں کہ ہم مکمل تجزیہ کر سکیں۔ ہاں اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ موجودہ دور میں عالمگیریت کا فائدہ یقینا" سرمایہ دارانہ نظام کو ہی ہو رہا ہے۔

لیکن آج سے تقریبا" ایک ہزار سال پہلے جب مسلمان عروج پہ تھے تو اس وقت جس حد تک بھی عالمگیریت کا سامان موجود تھا، اس کا انہی کو فائدہ ہوا جس کی وجہ سے مسلم ریاست کے اثرات چین، برصغیر، انڈونیشیا، شمالی افریقہ، سپین، بلقان، آسڑیا، ہنگری وغیرہ تک پہنچ گئے۔

اسی طرح اس کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی وغیرہ کا دور آیا تو انگریز یعنی برطانیہ اور دیگر اہلِ یورپ نے بھی اسی عالمگیریت کے ثمرات چکھے اور اپنی کالونیوں کو ایشیا، افریقہ، آسٹریلیا اور شمالی و جنوبی امریکہ تک میں جا پھیلایا۔

اور ابھی عہدِ حاضر میں بالعموم تمام اہلِ مغرب اور بالخصوص امریکہ اسی عالمگیریت کا سب سے بڑا بینفشری ہے۔ اور یہ اس حد تک ہے کہ دونوں الفاظ یعنی کیپٹل ازم اور گلوبلائزیشن ایک دوسرے کا کمپلیمنٹ بن کے رہ گئے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام کے عالمگیریت پہ حاوی ہو جانے کی وجہ سے ہی ہمیں پوری دنیا میں اس کے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جیسے ۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ دنیا میں ہر جگہ کے ایف سی، میکڈونلڈ، پزا ہٹ، سب وے وغیرہ کی شاخیں ملیں گی۔
۔ ۔ ۔ مغربی اخبارات، رسائل اور ادب ساری دنیا میں بے تحاشا پڑھا جاتا ہے۔ جیسے ٹائم میگزین، نیوز ویک، سڈنی شیلڈن، ڈین براؤن کے ناولز
۔ ۔ ۔ مغربی سینما اور مغربی ٹی وی چینلز جیسے سی این این، بی بی سی کو ساری دنیا میں دیکھا اور مستند سمجھا جاتا ہے۔
۔ ۔ ۔ پوری دنیا میں مغربی مصنوعات مارکیٹ میں کھلے عام بکتی ہیں۔
۔ ۔ ۔ مغربی فیشن، مغربی لباس اور مغربی روایات جیسے ویلنٹائن ڈے، مدرز ڈے وغیرہ کو اب ساری دنیا میں مقبولیت حاصل ہے اور اس میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

عالمگیریت اور ارتکازِ زر کا خدشہ

گلوبلائزیشن کے معاشی نظام پہ جو اثرات پڑ رہے ہیں، اس کی وجہ سے دنیا بھر کے معاشی کنٹرول کا ارتکاز زیادہ تیزی سے ہونے لگا ہے۔

بذریعہ مثال اس کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ فرض کریں کہ اگر آج سے ساٹھ، ستر سال پہلے دنیا میں مختلف اہم مصنوعات بنانے والی یا سروسز مہیا کرنے والی ایک ہزار کمپنیز تھیں تو گلوبلائزیشن کے ذیلی اثرات کی وجہ سے ان کے مرجر ہوتے جا رہے ہیں اور اب یہی مصنوعات یا سروسز شاید ایک سو کمپنیز کے ہاتھ میں رہ گئی ہوں۔ بالفاظِ دیگر بہت سی چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کی جگہ کچھ بڑی مچھلیوں نے لے لی ہے۔
یہی رجحان چلتا رہا تو کچھ بعید نہیں کہ یہ مزید مرکوز ہو کر دس بارہ یا پانچ سات بڑی کمپنیز کے ہاتھ میں رہ جائے اور اگر ایسا وقت آتا ہے تو اس وقت جو صورتحال ہو گی، یقینا" اس کا مس یوز کیا جا سکتا ہے اور موجودہ حالات کو دیکھ کے پیشن گوئی بھی کی جا سکتی ہے کہ اس کا مس یوز کون کر سکے گا اور مسلم ممالک اور کچھ دیگر اقوام کس پلڑے میں ہوں گے۔
یہاں آ کے یہ بات کچھ کچھ نیو ورلڈ آرڈر اور تہذیبوں کے تصادم سے بھی جا ملتی ہے۔  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنے خیالات کا اظہار کرنے پہ آپ کا شکرگزار ہوں
آوارہ فکر