اتوار، 13 اپریل، 2014

خوش قسمت کون؟

کوئی سال دو پہلے کی بات ہے۔ ایپل کمپنی کے مشہورِ زمانہ بانی سٹیو جابز کی وفات کی خبر سنی تو بہت سے لوگوں کا یہ کمنٹ سننے یا پڑھنے کا موقع ملا کہ امریکہ خوش قسمت ہے کہ اس میں سٹیو جابز جیسے لوگ پیدا ہوئے۔ ایسے کمنٹس کو سن کے یا پڑھ کے جو پہلا خیال میرے ذہن میں آیا، وہ یہ تھا کہ خوش قسمت امریکہ نہیں کہ اس میں سٹیو جابز پیدا ہوا۔ بلکہ خوش قسمت سٹیو جابز تھا کہ وہ امریکہ میں پیدا ہو گیا۔
ذرا سوچیئے کہ اگر سٹیو جابز صاحب شومئیِ قسمت سے ہمارے یہاں پیدا ہو جاتے۔ اول تو سکول کالج کے لیول پہ ہی جناب کا سارا ذوق و شوق و جستجو مر کھپ چکے ہوتے۔ محترم کوئی چھوٹی موٹی اور سچی یا جھوٹی ڈگری کما کے ریلوے یا واپڈا میں اچھی سی نوکری لگنے کے اور پھر چاند سی بہو لانے کے سپنوں سے ہی باہر نہ آ پاتے۔

سوموار، 7 اپریل، 2014

میرے عزیز ہم وطنو

پاکستان جب سے بنا ہے، ایک چیز تواتر سے ہر کچھ عرصے بعد ہمارے سامنے آن کھڑی ہوتی ہے، اور وہ ہے میرے عزیز ہم وطنو۔ اس شروعات کے بعد کا جو متن ہے، وہ کم وبیش ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ یعنی کہ ملک و ملت کو عظیم الشان خطرات لاحق ہو چکے تھے، نظریہ پاکستان کو گروی رکھ دیا گیا تھا، کرپشن کا دور دورہ ہو چکا تھا۔ مختصر یہ کہ حالات اس نہج پہ پہنچا دیئے گئے تھے کہ اسلام کے اس قلعے کی حفاطت کے لئے مجھے مجبورا" میرے عزیز ہم وطنو
کرنا پڑ گیا ہے۔ لہٰذا میرے عزیز وطنو! اب تم سب سے التماس ہے کہ مجھے دس بارہ سال کم از کم برداشت کرو اور اس سے اگلے دس بیس سال میرے اثرات و باقیات کو بھی برداشت کر لینا۔

جمعہ، 4 اپریل، 2014

اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز از محمد حنیف

محمد حنیف کے انگریزی زبان میں لکھے گئے اس باکمال ناول نے دنیا بھر میں شہرت پائی۔ بلاشبہ یہ ایک بہت شاندار ناول ہے۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ پاکستانی مصنفین کے لکھے انگلش ناولز میں یہ ناول اور دی ریلکٹینٹ فنڈامینٹلسٹ (از محسن حامد) سب سے بہترین ناول ہیں تو کچھ ایسا غلط نہ ہو گا۔ ناول کا پلاٹ حقیقی کرداروں اور حقیقی سچویشن کو لے کے بنایا گیا ہے۔
بنیادی طور پہ یہ ضیاءالحق کے دور کے آخری چند ماہ کی کہانی بیان کرتا ہے۔ واقعات کی سیکوینسز میں کچھ اصل اور حقیقی ہیں تو کچھ افسانوی ہیں۔ جس کی وجہ سے ناول میں تھرل کی کمی کہیں بھی محسوس نہیں ہوتی۔