بدھ, جنوری 23, 2013

تاریخ اور جھوٹ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بستی میں دو بھائی رہتے تھے۔ والدین کی وفات کے بعد دونوں بھائیوں نے کچھ بات چیت کے بعد جائیداد کو تقسیم کر لیا اور الگ الگ ہنسی خوشی رہنے لگے۔ کئی دہائیوں کے بعد ان کے بچے والدین سے سوال کرتے کہ آپ دونوں الگ کیوں ہوئے۔ اس پہ ان کو جواب ملتا کہ ہم نے سوچا کہ اکٹھے رہیں گے تو جھگڑے بڑھیں گے، خواہ مخواہ کی چخ چخ ہو گی۔ تو بہتر ہے کہ الگ الگ رہ لیں۔

دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ
ایک اور بستی میں دو بھائی تھے۔ والدین کی وفات کے بعد ایک نے علیحدہ ہونے کا مطالبہ کیا۔ دوسرے کے نہ ماننے پہ شدید لڑائی جھگڑا ہوا اور بحالتِ مجبوری جائیداد کا بٹوارہ تو ہو گیا۔ لیکن چونکہ باہمی رضامندی سے نہ ہوئی تھی تو بٹوارے کے بعد بھی عدالتوں میں کیس چلتے رہے۔ کئی دہائیوں بعد جب ایک کے بچے پوچھتے کہ آپ الگ کیوں ہوئے تھے، تو ان کو جواب ملتا کہ دوسرا بھائی نماز نہیں پڑھتا تھا، روزے بھی نہیں رکھتا تھا۔ اس لئے میں نے بٹوارہ کر لیا تا کہ اپنی عبادات سکون سے کر سکوں۔

کچھ ایسا ہی حال ہمارے ساتھ من حیث القوم بھی ہو گیا ہے۔ الگ ملک کی خواہش کرنا اور الگ ملک حاصل کر لینا ایک بہت اچھی بات اور اہم کارنامہ ضرور ہے، لیکن اس کے لئے جس نعرے کو بنیاد بنایا، اس نے ساری تاریخ کا بیڑا غرق کر دیا۔ اس نے مجبور کر دیا کہ تاریخ کو مسخ کر دیا جائے اور مجبوراً بہت سے جھوٹ بولے بلکہ ببانگِ دہل بولے جائیں۔

آج آپ مجبور ہیں کہ بھگت سنگھ کا نام بھی نہ لیا جائے۔ کورس کو کیا، اخباروں اور کالموں میں بھی اس کا ذکر نہ کیا جائے۔ کوئی یہ تسلیم کرنے کو بھی تیار نہیں کہ اس نے بھی ہمارے لئے جان دی تھی۔ وہ بھی ہماری ہی آزادی کا سپاہی تھا۔

برِ صغیر کی تاریخ میں اس کے اپنے پیداکردہ لیڈرز کم کم ہی ملتے ہیں۔ سب امپورٹڈ مال دکھائی دیتا ہے جیسے غزنوی، غوری، مغل وغیرہ۔ تاریخ کو کھنگالا جائے تو دو ایسے حکمرانوں کا نام سامنے آتا ہے جو اپنے دور کے بہترین منتظم اور بہادر حکمران تھے۔ راجہ پورس، جس نے سکندر کو شکست دی اور راجہ رنجیت سنگھ۔ آج ہم مجبور ہیں کہ ان کا ذکر کریں بھی تو تضحیک اور تحقیر کے ساتھ۔ سچ کو سامنے نہ لانا ایک مجبوری بن گیا ہے۔

سوائے غالب، میر اور مزید چند ناموں کے بے شمار اردو شعرا اور ادیبوں کو ہمارے کورس میں کہیں جگہ بھی نہیں مل پاتی، کیونکہ وہ بھارت میں تھے یا بھارت میں ہیں مثلاً کیفی اعظمی، علی سردار جعفری، حسرت جے پوری، عصمت چغتائی وغیرہ۔ جبکہ یہ سب ہندی کے شاعر نہیں تھے، بلکہ اردو کے تھے جو کہ سو کالڈ مسلمانوں کی زبان بتائی جاتی ہے۔

بچے پوچھتے ہیں پاکستان کیوں بنایا تھا، جواب ملتا ہے کہ اسلام کے نام پہ۔ اگر ہمت کر کے کوئی پوچھ لے کہ پھر اسلام رہ کہاں گیا، دکھائی کیوں نہیں دیتا تو اس پہ جواب میں یا چپ ملتی ہے یا ڈانٹ۔

یقین جانئے! اپنی نسلوں سے سچ کو چھپا کے اور جھوٹوں بھری تاریخیں بتا سنا کے کچھ فائدہ نہیں ہونے والا۔ اس کا نقصان ہی نقصان ہے۔ کیونکہ جہاں سوال اٹھ گیا، جواب میں صرف چپ ہی سادھنی پڑے گی۔

5 تبصرے:

  1. تاریخ کے بارے میں سب سے بڑی حقیقت وہ ہے جو ابن خلدون نے بیان کی ہے کہ تاریخ جیسی اہم چیز کو کبھی بھی عوامی دلچسپی کا میدان نہیں ہونا چاہیے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. درست فرمایا جواد بھائی۔ تاریخ کو کلی طور پہ حقیقت پسندانہ اور آئینے کی طرح شفاف اور بے رحم ہونا چاہئے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. الحمداللہ میں مسلمان ہوں اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میرے ہیروز مسلمان ہی ہیں۔
    سبھاش چندر بوس ہوا ۔ بھگت کبیر یا راجہ پورس ۔ میرے ہیرو انکے مقابلے میں البتہ محمد بن قاسم اور اسی طرح کے دوسرے ِ”امپورٹڈ“ یا مقامی لوگ ہیں ۔کیونکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    کیونکہ میرے ہیرو بہرحال عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہہ ہیں اور ابوجہل کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
    تو پھر میرا سوال آپ سے یہ ہے ۔۔ کہ اس پہ آپ کو اعتراض کیوں ہےَ؟ یہ میری مرضی ہی نہیں بلکہ میرا استحقاق ہے کہ میں کسے ہیرو رکھوں ۔ اور کسے نہ رکھوں۔۔۔ تو پھر آپ یہ مطالبہ کیوں کرتے ہیں ۔۔ کہ محمد علی جناح رحمتہ علیہ ہیرو نہیں اور موہن داس گاندھی اور پنڈت جواہر لعل نہرو ہیرو ہیں؟ آخر وہ بھی تو ہندوستان کی آزادی کے لئیے کوشش کرتے رہے۔۔۔
    حضور یہ ناممکن بات ہے کہ محمد علی جناح رحمتہ علیہ کی بجائے نہرو ۔ پٹیل ۔ گاندھی کو کو ہیرو مانا جائے۔
    باپ وہی اپنا ہوتا ہے جو ہوتا ہے ۔۔ وہ خوبصورت ہو یا بدصورت ۔۔ یہ بعد کی باتیں ہیں۔
    مسلمان جہاں بھی بستا ہو اسکی ذہنی و نفسیاتی ساخت کا نسدخہ کیمیاء ایک الگ شناخت اور منفرد درجہ رکھتا ہے ۔۔ بس یہ ننھا سا نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے بعد انشاءاللہ آپ کو دوسری قوموں سے ہیرو مستعار لینے اور مسلط کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. جاوید گوندل صاحب! میں شکرگزار ہوں کہ آپ نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ بہت شکریہ
    میں ہرگز بھی نہیں چاہوں گا کہ اپنی رائے آپ پر یا کسی اور پر مسلط کروں۔
    میں نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ قائداعظم میرے ہیرو نہیں ہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تاریخ میں سے سچ کو غائب نہ کر دیا جائے۔
    محمد بن قاسم میرا بھی ہیرو ہے، لیکن میں ساتھ ہی ساتھ یہ بھی چاہوں گا کہ اس بابت بھی علم ہو کہ محمد بن قاسم یا طارق بن زیاد کا انجام کیا کیا گیا۔
    ضروری نہیں کہ تاریخ میں ہر بات میٹھی میٹھی ہی ہو۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. آج مسلمانوں میں بےجا تعصب دکھائی دیتا ہے،اگر کسی غیر مسلم میں کوئی بھلائی نظر آئے تو اس کو کھلے دل سے قبول کر لینا چاہیئے!
    غیرت اچھی چیز ہے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ کسی کی اچھائی کو بھی نظر انداز کر دیا جائے۔

    جواب دیںحذف کریں

اپنے خیالات کا اظہار کرنے پہ آپ کا شکرگزار ہوں
آوارہ فکر