اتوار، 19 جون، 2011

چند تاریخی انقلاب اور ان کا تجزیہ

تین عظیم ترین انقلاب جو کہ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے سامنے آتے ہیں، وہ ہیں: انقلابِ فرانس، انقلابِ روس اور انقلابِ ایران۔

اس میں سے روس کے اشتراکی انقلاب کو معاشی انقلاب کہا جا سکتا ہے۔
ایران کے انقلاب کو ہم مذہبی انقلاب کہہ سکتے ہیں۔
جبکہ فرانس کے انقلاب کو معاشرتی انقلاب کہا جا سکتا ہے۔

ان انقلابات کا کسی حد تک مطالعہ کرنے کے بعد کچھ تجزیہ درجِ ذیل ہے۔

روسی انقلاب: روس کے انقلاب کی بنیاد ایک ایسا نظام تھا جس کو کسی بھی انسان کا تجویز کردہ بہترین اور عظیم ترین نظام قرار دیا جا سکتا ہے۔ اپنی ساری زندگی کسمپرسی اور غربت میں بسر کرنے والا کارل مارکس ایک ایسے شاندار نظام کا تصور دے گیا تھا جس میں انسان کی اہمیت پیسے یا مال و دولت سے زیادہ تھی۔ اسی نظام کے تصور کی بنیاد پر بیسویں صدی کے آغاز میں لینن کی قیادت میں روسی انقلاب آیا۔ لیکن اس میں صرف معاشی نظام کے خد و خال تھے۔ اس کے ثمرات ہر شخص تک نہیں پہنچائے جا سکے اور شاید ایسا ممکن بھی نہیں تھا۔ آخر کار ستر سال کے بعد اس نظام کو اسی کی خرابیاں لے ڈوبیں اور یہ معاشی مساوات کا پرچار کرتے کرتے معاشی ناہمواری کی بھینٹ چڑھ گیا۔ (جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ روس افغانستان کی جنگ کی وجہ سے ٹوٹا اور اس میں مجاہدین یا پاکستان کا سب سے بڑا رول ہے، میں ان سے اتفاق نہیں کرتا۔ ملک ہمیشہ اپنے نظام کی اندرونی خرابیوں کی وجہ سے ٹوٹتے ہیں۔ چرچل کا وہ مشہور زمانہ قول یاد رکھیں کہ جب تک ہماری عدالتیں لوگوں کو انصاف دے رہی ہیں، تب تک جرمن ہمارے ملک کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔)

ایران کا مذہبی انقلاب: دنیا کی تاریخ میں شاید عظیم ترین پسِ منظر رکھنے والی قوم اور شہنشاہت ایران میں بھی امام خمینی کی قیادت میں سیکولر شہنشاہ کے خلاف تحریک کے نتیجے میں انقلاب آیا جس کو مذہبی انقلاب کہا جا سکتا ہے۔ جو نسل انقلاب لائی تھی، اس نے تو اس انقلاب کو کسی نہ کسی طرح سنبھالے رکھا اور نظام اچھی طرح سے چلتا رہا۔ لیکن صرف تیس سال میں ہی اسی نظام کے اندر سے معتدل مزاج لوگوں کی خصوصا" نئی نسل کی آوازیں بلند ہونی شروع ہو چکی ہیں۔ آج تہران اور دوسرے شہرون میں لاکھوں لوگ گلیوں میں نکل رہے ہیں۔ یہ کسی چیز کی نشانی ضرور ہے۔ کچھ لوگ امریکہ کو اس کا الزام دیتے ہیں لیکن یقین جانئے کہ امریکہ لاکھوں تو کیا چند ہزار لوگوں کو بھی گلیوں میں نہیں لا سکتا۔ یہ صرف کسی جذبے کے تحت ہی ممکن ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس نظام کی شکست و ریخت کو مؤخر تو کیا جا سکتا ہے لیکن اس میں تبدیلی کو روکا نہیں جا سکتا۔ تاوقتیکہ اسی نظام کو ایک معتدل شکل دے دی جائے۔

انقلابِ فرانس: انقلابِ فرانس کو اسلام کے ظہور کے بعد تاریخ کا عظیم ترین واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اٹھارہویں صدی کے وسط کے قریب فرانس کے جو حالات تھے، آجکل پاکستان کے حالات کو اس سے کافی تشبیہہ دی جاتی ہے خصوصا" جاوید چودھری جیسے کالم نگار اس کو اسی زاویے سے دکھا رہے ہیں۔ اس دور میں فرانس میں معاشی ناہمواری زوروں پر تھی۔ ہر علاقے میں ایک طرح کا سرداری نظام قائم تھا۔ حکومتی زعماء اور سردار سب وسائل پر قابض تھے اور مزدور پیشہ لوگوں کی محنت کا پھل کھا رہے تھے۔ عدالتوں میں انصاف عام آدمی کے لئے ناپید تھا۔
اس پہ کس طرح تحریک چلی، کیا نظریاتی اساس تھی، یہ ایک طویل داستان ہے۔ اس پہ ان شااللہ پھر کبھی لکھوں گا۔ قصہ مختصر یہ کہ بپھرے اور کچلے ہوئے انسانوں نے اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور سارے سسٹم کی کایاپلٹ دی۔ فرانس کا سارا معاشرہ بدل گیا۔ اسی کے نتیجے میں تعلیم، صنعت وغیرہ کو فروغ ملا۔ فرانس کے انقلاب نے فرانس کے باہر سارے یورپ کو بھی متأثر کیا اور تقریبا" سارے یورپی ممالک میں ایک جیسا معاشرتی ڈھانچہ بن گیا۔

انقلابِ چین: ان تینوں کے علاوہ ایک اہم واقعہ انقلابِ چین بھی ہے۔ چین کا انقلاب کلاسیکل سینس میں معاشرتی انقلاب کے طور پر نہیں برپا ہوا تھا۔ بلکہ چین کا انقلاب بھی در اصل اشتراکی نظام کی اساس پہ ہی آیا تھا یعنی کسی حد تک روس سے متأثر ہو کر۔
لیکن چین والوں نے اس میں عقلمندی یہ کی کہ اس میں ایسی تبدیلیاں کرتے گئے جس سے ان کے ملک میں معاشی اور معاشرتی ناہمواری کو کم کرنے بلکہ ختم کرنے میں مدد ملی۔ اور اب جا کے چین کا نظام مساوات پر مبنی معاشرے کی ایک عظیم مثال بن کے سامنے آیا ہے۔ بقول ایک مصنف کے،"چین جا کے ہم یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ کیسے ایک ارب سے زیادہ لوگ ایک ہی رفتار سے ترقی کر رہے ہیں۔


اس ساری تفصیل کا مقصد یہ تھا کہ اگر پاکستان نے بھی ترقی کرنی ہے تو معاشرتی نظام کو بدلنا ہو گا۔ ہم پہلے ہی ایک بار اس میں ناکام ہو چکے ہیں یعنی پاکستان کے قیام کے وقت اگر اس ملک میں جاگیر داری نظام کو لپیٹ دیا جاتا تو آج ہمارا ملک ایک مختلف ملک ہوتا۔ لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔ اسی لئے میری رائے میں قیامِ پاکستان ایک سیاسی کامیابی یعنی پولیٹیکل وکٹری تو تھی، لیکن یہ کسی بھی طرح سے انقلاب نہیں تھا۔


دعا کریں کہ ہمارے ملک کی بہتری کی بھی کوئی صورت نکل آئے۔

5 تبصرے:

  1. اے ہمدمِ دیرینہ کیسا ہے جہاں رنگ و بو

    بلاگنگ دنیا میں خوش آمدید بڑے بھائی۔۔

    بہت خوب جی۔۔ امید ہے آپ جیسے اساتید کی راہنمائی میسر آنے پہ ہم کم از کم بلاگرین میں اپنا موقف واضح کر سکیں گے۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. بہت خوب!
    خوش آمدید
    عینی

    جواب دیںحذف کریں
  3. آپ دونوں کا بہت شکریہ۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. بہت خوب یاز بھائی

    بہت خوشی ہوئی آپ کو ساتھ دیکھ کر

    جواب دیںحذف کریں

اپنے خیالات کا اظہار کرنے پہ آپ کا شکرگزار ہوں
آوارہ فکر