منگل, نومبر 13, 2012

میں کہاں دفن ھوں پتہ تو چلے

 خارو خس تو اٹھیں راستہ تو چلے
میں اگر تھک گیا قافلہ تو چلے

چاند سورج بزرگوں کے نقش قدم
خیر بجھنے دو ان کو ھوا تو چلے



حاکم شہر، یہ بھی کوئی شہر ھے
مسجدیں بند ہیں، میکدہ تو چلے

اس کو مذہب کہو یا سیاست کہو
خودکشی کا ہنر تم سکھا تو چلے

اتنی لاشیں میں کیسے اٹھا پاؤں گا
آپ اینٹوں کی حرمت بچا تو چلے

بیلچے لاؤ کھولو زمیں کی تہیں
میں کہاں دفن ھوں کچھ پتا تو چلے
(کیفی اعظمی)۔

1 تبصرہ:

اپنے خیالات کا اظہار کرنے پہ آپ کا شکرگزار ہوں
آوارہ فکر