بدھ, اپریل 25, 2012

طاؤس و رباب اول

  آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی ذیل میں دی گئی تصویر دیکھ کے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب حکمرانوں کے لئے طاؤس و رباب اول ہو جائے، سائنس و ٹیکنالوجی کی بجائے شاعری اور موسیقی کو فوقیت ہو تو پھر کیا انجام ہو سکتا ہے۔

 

  




یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگان کی یاد
تنہایوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو
آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول
عبرتِ سرائے دہر ہےاور ہم ہیں دوستو


فرمانِ باری تعالٰی ہے

”قل اللھم مالک الملک توتی الملک من تشاء و تنزع الملک ممن تشاء و تعز من تشاء و تذل من تشاء بیدک الخیر انک علی کل شئی قدیر

پیغمبر آپ کہئے کہ اے اللہ! تو صاحب اقتدار ہے جس کو چاہتا ہے اقتدار دے دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے سلب کرلیتا ہے ۔ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ھے ذلیل کرتا ھے ۔ سارا خیر تیر ے ہاتھ میں ہے اورتو ہی ہر شہ پر قادر ھے ۔

بدقسمتی سے ہم نے بحیثییتِ قوم یہ سیکھا ہے کہ ایسی تمام آیات یا احادیث صرف غیرمسلموں پہ ایپلی کیبل کرنی ہیں۔ جیسے ہمیں استشناء ہو۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنے خیالات کا اظہار کرنے پہ آپ کا شکرگزار ہوں
آوارہ فکر