سوموار، 9 جون، 2014

کراچی ایئرپورٹ پہ دہشت گردی اور ماضی کے واقعات

ویسے تو پاکستان میں مکمل امن شاید ہی کبھی موجود رہا ہو، لیکن ماضی قریب میں فاٹا آپریشن شروع کئے جانے کے بعد سے اس ملک نے دہشت گردی کے ایسے ایسے واقعات دیکھے ہیں کہ اب محسوس ہوتا ہے کہ اس سے پہلے تو پاکستان بہت ہی پرسکون اور امن کا گہوارا ہوا کرتا تھا۔

لیکن فاٹا آپریشن کے بعد بہادر کمانڈو المعروف مشرف صاحب نے جب لال مسجد کر دیا تو اس کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کے ایسے ایسے واقعات ہوئے کہ ہالی ووڈ کی ڈائی ہارڈ سیریز جیسی فلموں کو بھی مات کر دیا۔

ان واقعات کے نتیجے میں پاکستان نے ایسا ایسا جانی و مالی و جذباتی نقصان اٹھایا کہ جس کا ذکر بھی مشکل ہے۔ ان میں جی ایچ کیو پہ حملہ، راولپنڈی پریڈ لین پہ حملہ، مہران بیس پہ حملہ، کامرہ میں اواکس جہازوں پہ حملہ وغیرہ زیادہ مشہور واقعات ہیں، ورنہ تو دل دہلا دینے والی دہشت گردی کے اتنے واقعات ہیں کہ صرف ان کے نام درج کرنے کا بھی یہ بلاگ متحمل نہ ہو سکے۔

ان سب واقعات میں نقصان، اس پہ افسوس، رونا دھونا، سرکاری بیانات تو اپنی جگہ۔ لیکن مجھے ہمیشہ ایک چیز چبھتی ہے ہے کہ جن واقعات کے وقوع پذیر ہونے کے نتیجے میں پراپر انکوائری کرا کے اس میں موجود سیکورٹی لیپس کی نشاندہی کرنا اور متعلقہ لوگوں کو لٹکانا یا سزا دلوانا درکار تھا۔ اس کی بجائے ہم ہمیشہ ان واقعات کے اندر سے بہادری اور شجاعت کی داستانیں نکال لاتے ہیں۔

مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ جب کامرہ بیس پہ اٹیک ہوا تو اگلے دن سب سے پہلا نعرہ یہ سننے کو ملا کہ بے مثال شجاعت کے نتیجے میں دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنا دیئے گئے ہیں۔ اگلے دن خبر آئی کہ پچیس ارب روپے مالیت کا ایک اواکس طیارہ مکمل تباہ ہو گیا، جبکہ پچاس ارب مالیت کے دو اواکس طیاروں کو اچھا خاصا نقصان پہنچا ہے۔ اب کوئی پوچھے کہ بھائی دہشت گردوں کا مقصد کیا کامرہ بیس پہ قبضہ جمانا اور ان پہ اپنی حکومت قائم کرنا تھا۔ قومی اثاثہ جات کو لگ بھگ پچاس ارب روپے کا ٹیکا لگوا کے بھی شجاعت و بہادری کے نعرے کافی مضحکہ خیز لگتے ہیں۔

خیر الحمدللہ کل رات والے کراچی ایئرپورٹ کے واقعہ میں ابھی تک ایسا کوئی نقصان نہیں ہوا اور اس بار شکر الحمدللہ کہ سیکورٹی فورسز نے شاندار رسپانس کا مظاہرہ کیا اور کراچی ایئرپورٹ کو کسی بڑے المیے سے بچا لیا۔ اس پہ یقینا" تمام سیکورٹی ادارے تحسین کے مستحق ہیں۔

2 تبصرے:

  1. بلاشبہ رات کے کراچی ایئر پورٹ حملہ میں اے ایس ایف کے اہلکاروں نے ایک نئی مثال قائم کی ہے ۔ گو تبدیلی کی رَٹ تو عمران خان نے لگائی ہے لیکن جمہوریت (خراب ہی سہی) کے تسلسل سے ماضی سے تھوڑا سا ہٹ کر واقعات نہیں ہونے لگ گئے ؟

    جواب دیںحذف کریں
  2. بالکل درست فرمایا افتخار بھائی۔
    جمہوریت کے تسلسل کے کچھ تو فوائد ہیں۔ یہ اور بات کہ کچھ مکتبہ ہائے فکر کو اس تسلسل میں اپنا نقصان دکھائی دیتا ہے، تبھی پیٹوں میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں

اپنے خیالات کا اظہار کرنے پہ آپ کا شکرگزار ہوں
آوارہ فکر