سوموار، 23 جون، 2014

مبارک ہو!!! انقلاب جہاز سے نکل آیا بالآخر

جیسا کہ سب جانتے ہی ہیں کہ جنابِ کینڈین انقلاب صاحب کو ایک ڈیڑھ سال سے اچانک پاکستان سے محبت ہو گئی ہے اور ان کی روح تک پاکستان میں انقلاب لانے اور ریاست بچانے کے لئے تڑپ تڑپ کے بے چین ہو رہی ہے۔ اس ضمن میں ان پہ کافی کالمز لکھ چکا ہوں اور ہر بار ارادہ کرتا ہوں کہ اب مزید ان پہ نہیں لکھنا، لیکن جنابِ انقلاب صاحب ہر بار کچھ ایسا کر جاتے ہیں کہ ان پہ مزید نہ لکھنے سے تشنگی سی محسوس ہوتی ہے۔

کنٹینر والے انقلاب اور اس کے بعد چند ایک ویڈیو لنک انقلابات بپا کرنے کے بعد اس بار جنابِ انقلاب صاحب نے ایک بار پھر سرزمینِ انقلاب کو اپنی زیارت سے فیض یاب کرنے کا قصد کیا، جس کے لئے غیب سے آئے پیسے، فرشتوں کی اخلاقی امداد اور منہاج القرآن کے تعلیمی اداروں کی استانیوں اور طلبا و طالبات کی انقلاب میں شرکت سے ماحول بنانے کا انتظام و انصرام کیا گیا۔

باقی سب تو ٹھیک ہی چل رہا تھا، لیکن دو کام ہو گئے۔ ایک تو یہ کہ حکومت نے دو نمبری یا شاید ایک نمبری کرتے ہوئے جہازِ انقلاب کو اسلام آباد کی بجائے لاہور ہی جا بھیجا، دوسرے یہ کہ انقلاب نے جہاز سے باہر آنے سے ہی انکار کر دیا۔

ایمیریٹس ایئرلائنز سے نادانستگی میں خطا ہو گئی یا پھر ان کی سوچ سے بالا بات ہو گی کہ انقلاب اتنا بے شرم ثابت ہو گا کہ جہاز پہ ہی قبضہ جما بیٹھے گا، ورنہ وہ انقلاب صاحب کو ٹکٹ دینے سے ہی پرہیز کرتے، جس کے بعد باکمال لوگ لاجواب پرواز ہی کے کندھوں پہ انقلاب لانے کا کام سرانجام دیا جانا تھا۔


سنا ہے کہ انقلاب کا جہاز سے باہر آنے کا اتنا جلدی ارادہ نہیں تھا، لیکن جب جہاز کا اے سی (جو کہ جہاز کے زمین پر ہونے کی وجہ سے اے پی یو یعنی آگزیلری پاور یونٹ سے چلایا جاتا ہے) بند کر دیا گیا، تو نازک مزاجِ انقلاب است کو گرمی نے ستایا جس سے انقلاب نے جہاز اور ایمیریٹس ایئرلائن وغیرہ کی جاں بخشی وغیرہ کی اور باہر تشریف آوری کی۔


ورنہ پہلے تو انقلاب کی فرعونیت کا یہ عالم تھا کہ کور کمانڈر سے کم سطح سے بندے سے بات کرنے کو بھی تیار نہ تھے۔ اور اپنے غریب اور عقل سے مکمل پیدل پیروکاروں کو شہادت کا درس دینے والے انقلاب کے لونڈاپن کا یہ حال تھا کہ جہاز سے باہر نکلتے ہوئے جاں جا رہی تھی۔ اور بعد میں بھی یہ عالم تھا کہ جہاز تک بلٹ پروف گاڑی اور ذاتی محافظ آئیں تو ہی جان ہتھیلی پہ رکھھ کے شہادت کی تمنا لئے انقلاب جہاز سے باہر آنے کو تیار ہوا۔ یہ بھی غنیمت ہے، ورنہ میرا خیال تھا کہ پھر سے وہی شہادت پروف کنٹینر ہی کی فرمائش نہ کر ڈالے۔


اب انقلاب کی اگلی منزل اور اگلا قدم کیا ہوگا۔ اس بابت انتظار فرمائیے تاکہ یہ ڈرامے باز، عیار اور نیچ شخص مزید سکرپٹ تیار کر سکے۔ کچھ کامیابی ہو گئی تو بہت خوب ورنہ پھر سے کینیڈا کی ٹھنڈی ہواؤں میں بیٹھ کے اگلے انقلاب کی تیاری شروع کر لے گا۔ 

4 تبصرے:

  1. مخول مخول میں آپ بات بڑی پتے کی کر جاتے ہیں ۔ کل میں نے دیکھا تھا کہ پرویز الٰہی اور گورنر پنجاب محمد سرور پسینہ پونچھ رہے ہیں تو کچھ حیرانی ہوئی تھی ۔ اب وضاحت ہو گئی ہے ۔ کل سعد رفیق بھی ایک پتے کی بات کہہ گیا تھا ”انقلاب بُلٹ پڑُوف گاڑیوں ۔ بم پروف کنٹینروں اور چارتڑڈ ہوائی جہازوں سے نہیں آیا کرتے ۔ سو معلوم ہوتا ہے کہ ہوائی جہاز چارٹر کیا گیا تھا اور یہی غلطی انقلاب کے آڑؑے آ گئی کہ آسانی سے جہاز کا رُخ لاہور کو موڑ دیا گیا ورنہ باقی سواریوں کی پریشانی مشکل میں ڈال دیتی

    جواب دیںحذف کریں
  2. ، لیکن جب جہاز کا اے سی (جو کہ جہاز کے زمین پر ہونے کی وجہ سے اے پی یو یعنی آگزیلری پاور یونٹ سے چلایا جاتا ہے) بند کر دیا گیا، تو ۔۔۔۔۔۔۔

    اچھا ۔۔ اب پتہ چلا کہ حضرت باہر نکلنے پر راضی کیسے ہو گئے ۔ ۔ ۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. صاف ظاہر ہے ۔ ۔ اس ساری کارگزاری کا مقصد ایک دن کے لیے میڈیا کو آہرے لگا کے رکھنا تھا ۔ ۔ ۔سوچنے کی بات ہے کہ کیوں؟

    جواب دیںحذف کریں
  4. اتنی اوقات نہی حضرت انقلاب کی.کہ چند الفاظ بھی کھلے جاتے ان کے لیے اتنا کافی گے ha ha haaaahhhhhaaaa hhhhaaaaahha

    جواب دیںحذف کریں

اپنے خیالات کا اظہار کرنے پہ آپ کا شکرگزار ہوں
آوارہ فکر