منگل، 21 اکتوبر، 2014

تحریکِ انصاف کی نئی اور بہتر احتجاجی حکمت عملی

چند ماہ قبل سے پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے موجودہ حکومت (یا موجودہ نظام کہہ لیں) کے خلاف تحریک کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ میرے لئے ابتدا میں سب سے حیرت انگیز عنصر ان دونوں مختلف الخیال جماعتوں کی پلاننگ اور ٹائمنگ میں اتفاقیہ طور پہ ہم آہنگی تھی۔ ہر ذی شعور یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ حیران کن مطابقت کیسے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ خیر دو ماہ گزرنے کے بعد اس بابت کافی کچھ سامنے آ چکا ہے، جس میں باغی صاحب کی معروضات بھی شامل ہیں۔ اس لئے اس بابت مزید بات کی ضرورت نہیں ہے۔

دھرنا سٹریٹجی کے طریقہ کار سے میری مخالفت کی بڑی وجوہات میں اس کا غلط طریقہ کار، غلط "عناصر" (یعنی امپائرز وغیرہ) پہ انحصار اور نقضِ امن کی دانستہ کوشش یا خواہش وغیرہ شامل تھی۔ اسی دوران ایسے ایسے مضحکہ خیز واقعات سامنے آئے کہ جن کو سن کے دھرنا  پلانرز کی عقلوں پہ ماتم کرنے کو جی چاہا۔ جیسے کرنسی نوٹوں پہ گو نواز گو لکھنا، سول نافرمانی کا اعلان کرنا، پیسے ہنڈی کے ذریعے بھجوانا، بجلی گیس کے بل جمع نہ کرانا، اسمبلیوں، الیکشن کمیشن کو نہ ماننا وغیرہ شامل ہیں۔

تاہم جاوید ہاشمی کے انکشافات کے بعد اچانک اس سٹریٹجی نے ایک نیا رخ لیا، جس نے مجھے بھی حیران  کر دیا۔ عمران خان نے اپنی پارٹی سمیت دھرنا و سول نافرمانی وغیرہ کو چھوڑ کر جلسے جلوسوں کی حکمت عملی اپنائی۔ دیکھا جائے تو اب یہ عمل کافی حد تک جمہوری جدوجہد کے سانچے میں ڈھل چکا ہے۔ اب آپ کو جلسوں میں پہلے سے بہتر رویہ، پہلے سے بہتر زبان دانی اور پہلے سے بہتر اٹینڈنس دکھائی دے رہی ہے۔ اب کوئی امپائرز کو آوازیں دیتا بھی سنائی نہیں دے رہا۔

میری نظر میں جمہوری دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے یہ جدوجہد نواز حکومت کے لئے دھرنا وغیرہ سے زیادہ بڑا خطرہ ہے۔ جیسے جیسے یہ سلسلہ طویل ہوتا جائے گا، ویسے ویسے یہ حکومت کمزور ہوتی جائے گی۔

اب اہم سوال یہی ہے کہ یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔ اس کے لئے صرف انتظار ہی کیا جا سکتا ہے

3 تبصرے:

  1. درست جناب اچھی حکمت عملی ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. very nice your thread.
    ap ne ye khod likha h sara?
    me ne ap ka ye blog urduweb sy search kia h.

    جواب دیںحذف کریں
  3. شکریہ جناب
    لکھی تو بندہ ناچیز نے خود ہی سے ہے۔
    اردو ویب سے سرچ ہو پانا خاکسار کے لئے خوشی و مسرت کا باعث ہے

    جواب دیںحذف کریں

اپنے خیالات کا اظہار کرنے پہ آپ کا شکرگزار ہوں
آوارہ فکر