جمعہ، 30 مئی، 2014

ایک "کُوگی" کی داستان

چند ماہ قبل کراچی میں میری ملاقات جرمنی کے دو افراد سے ہوئی جو کہ اپنی کمپنی کے کاروبار کے سلسلے میں یہاں میٹنگ کے لئے آئے تھے۔ ایئرپورٹ کے قریب ایک ہوٹل میں میٹنگ کی گئی۔ اسی دوران کھانے کا وقت ہو گیا تو ہم سب لوگ لنچ والے ہال میں چلے گئے۔ اب بیٹھے کھانا کھا رہے تھے تو گوروں کی عادت کے مطابق یعنی کھانے کے دوران بزنس کی بات نہیں کرتے، بلکہ جنرل گپ شپ کی جاتی ہے، ہم نے بھی ان سے ہلکی پھلکی بات چیت شروع کی۔
میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگ تو یہاں بور ہو رہے ہو گے۔ یہاں نہ تم لوگوں کی گرل فرینڈز ہیں، نہ ہی باہر گھومنے پھرنے کے حالات ہیں اور نہ ہی پینے پلانے کو بارز موجود ہیں۔ گورا صاحب نے کہا کہ باقی سب تو میسر نہیں ہے، لیکن پینے پلانے کو یہاں ہوٹل میں ہی مل جاتا ہے۔ بس اس کے لئے کچھ قواعد و ضوابط کی پابندی کرنی پڑتی ہے جیسے ایک سرٹیفیکیٹ سائن کرتے ہیں کہ میں یہ اپنے علاوہ کسی کو نہیں دوں گا، فلاں فلاں وقت کے علاوہ نہیں پیوں گا۔ کمرے سے باہر نہیں پیوں گا۔ وغیرہ وغیرہ۔

میں نے کہا کہ ہمارے ہاں تو لوگ یہ کرتے ہیں کہ ہوٹل سے اسی طرح سرٹیفیکیٹ سائن کر کے لے لیتے ہیں اور کسی کو بیچ دیتے ہیں۔ اس پہ گورا صاحب حیران ہوئے اور بولے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا کیسے ہو سکتا ہے۔ بولا کہ جب آپ نے ایک کاغذ پہ سائن کر دیا ہے کہ میں یہ کسی کو نہیں دوں گا تو کسی کو کیسے دیا جا سکتا ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے۔

میں نے اوپر سے تو مذاق میں بات ٹال شال دی، لیکن اندر سے یہ کیفیت تھی کہ دل کر رہا تھا کہ زمین میں گڑ جاؤں۔ میں سوچ رہا تھا کہ گورے کا دماغ ایک سادے کاغذ پہ سائن کی خلاف ورزی کو حقیقت تسلیم کرنے پہ تیار نہیں ہے۔ اس کو اگر بتاؤں کہ یہاں لوگ عدالتوں، کچہریوں میں مقدس ترین کتاب یعنی قرآن مجید پہ ہاتھ رکھ کے قسم کھاتے ہیں کہ اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پہ عذاب نازل ہو وغیرہ وغیرہ اور ساتھ ہی ہر قسم کی جھوٹی گواہی دیتے ہیں۔ اور ان کے ضمیر پہ نہ کوئی بوجھ ہوتا ہے اور نہ چہرے پہ کوئی شرم۔ ان کے ارد گرد موجود لوگوں بشمول جج اور وکلاء کو یقینِ کامل ہوتا ہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور گواہی کے نام پہ بکواس کر رہا ہے۔ اس کے باوجود وہ اس کی بات کو سچ بھی تسلیم کرتے ہیں۔

گورا صاحب کو کیسے سمجھایا جائے کہ اس سرٹفیکیٹ پہ دستخط کی وقعت کاغذ پہ لگی ایک "کُوگی" سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس "کُوگی" لگانے والے کو دو منٹ بعد یاد بھی نہیں ہو گا کہ اس نے ابھی ابھی کسی حلف نامے یا کسی کاغذ پہ سائن بھی کئے تھے۔

سچ ہے کہ قومیں ایسے ہی نہیں بنتی ہیں، اور ایسے ہی نہیں بگڑتی ہیں۔

4 تبصرے:

  1. جناب باقی باتیں تو آپ ۔ میں اور ہمارے ہموطن جانتے ہیں ۔ ان پر بات کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ۔ میں اس سلسلے میں کچھ دنوں سے ایک تحریر لکھنے کا سوچ رہا ہوں ۔ جب لکھوں گا تو آپ کو قوم کی اس بے حسی کی بنیادی وجہ شاید معلوم ہو جائے
    اس وقت میں پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ ” کُو گی“ کیا ہوتی ہے اور اس کی وجہ تسمیہ کیا ہے ؟
    میرے عِلم کے مطابق فاختہ کو پنجابی میں کُوگی کہتے ہیں ۔ نااہل شکاری کو کوئی شکار نہ ملے تو خالی ہاتھ واپس جانے کی بجائے واپسی کے راستہ پر فاختائین مار کر لے جاتا تھا ۔ فاختہ ایک بے ضرر اور سادہ طبیعت انسان دوست پرندہ اللہ نے بنایا ہے ۔ اسی لئے اسے امن کا نشان بھی مانا جاتا ہے ۔ فاختہ کا شکار نہائت آسان ہوتا ہے ۔ ماضی میں بے ضرر قسم کے دستخط کرنے کو کہتے تھے ”یار ۔ کُوگی مار دے اور بے فکر رہ“۔ عصرِ حاضر میں اس معصوم کُوگی کو بہت بدنام کیا جا رہا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. افتخار بھائی دستخط کرنے کو کگی مارنا/کگی واہنا کہا جاتا ہے شاید۔ مگر اسکا تلفظ پنجابی میں کوگی نہیں بنتا۔ یہ ک-گی کو اردوایا گیا ہے۔۔ ۔۔ میں اپنے والد صاحب کے دستخط کرتے سمے بگلا بنایا کرتا تھا۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. افتخار بھائی! کُوگی کیا ہوتی ہے، یہ تو آپ نے ہی بتا دیا ہے۔ اور اس کی وجہ تسمیہ یعنی دستخطوں کو کوُگی کہنے کا رواج کب پڑا، یہ تو مجھے بھی علم نہیں ہے۔
    یہ بات آپ کی درست ہے کہ عصرِ حاضر میں اس کُوگی کو بہت بدنام کیا جا رہا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. کس دُکھتی رگ کو چھیڑدیا جانی
    کس کس کو روئیں

    جواب دیںحذف کریں

اپنے خیالات کا اظہار کرنے پہ آپ کا شکرگزار ہوں
آوارہ فکر